Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 285,191 531
DEATHS 6,112 15
Sindh 124,127 Cases
Punjab 94,586 Cases
Balochistan 11,921 Cases
Islamabad 15,281 Cases
KP 34,755 Cases

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس اب تیزی کے ساتھ اپنے عروج کو پہنچ رہا ہے جہاں ایک طرف کورونا سے اموات اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو وہیں دوسری جانب لاک ڈاؤن میں بھی اب نرمی کی جارہی ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ لاک ڈاؤن ہی صرف کورونا وائرس کا آخری حل نہیں ہے بلکہ لاک ڈاؤن سے تو صرف ہم اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرسکتے ہیں۔

افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے 2 ماہ لاک ڈاؤن تو کیا لیکن اس پر صحیح طرح عملدرآمد نہیں کرواسکے اور نہ ہی اپنے صحت کہ نظام کو مضبوط بناسکے۔ ایک طویل لاک ڈاؤن کے دوران بھی شہری حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے دکھائی دیئے اور اب جب بازار، شاپنگ مالز ، سیاحتی مقامات کھل رہے ہیں تو وہاں بھی ایس او پیز کی دھجیاں بکھرتی دکھائی دے رہی ہیں اور عوام کسی صورت احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے کیلئے وزیراعظم صاحب نے ٹائیگر فورس کا اعلان تو کیا مگر وہ بھی متحرک دکھائی نہیں دے رہی پاکستان میں عوام کی اکثریت کورونا وباء کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے اور ان کے مطابق تو یہ وباء امریکا اور اسرائیل کی سازش ہے اور ہماری حکومت ڈالرز لینے کیلئے پابندیاں لگا رہی ہے۔

اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں جس قوم کی یہ سوچ ہو اور وہ کورونا جیسی خطرناک وباء جس نے دنیا بھر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو نگل لیا ہو، کروڑوں افراد متاثر ہوں، دنیا بھر میں معمولات زندگی متاثر ہوں، بڑی بڑی معیشتیں سکڑ گئی ہوں، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منوہ بھی سنسان ہوگیا ہو مسجد نبوی ﷺ میں ہزاروں کی تعداد میں جہاں نمازی نماز ادا کرتے تھے وہاں بھی مخصوص لوگوں نے سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کی مگر افسوس سد افسوس کہ ہم اب بھی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھی کورونا کو صرف مزاق قرار دے رہے ہیں۔

جب تک لوگ احتیاط نہیں کریں گے سماجی فاصلے، ماسک اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تب تک ہم اس وائرس سے نجات حاصل نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم عمران خان بھی کئی بار اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ہمیں اب کورونا کہ ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ اٹلی، اسپین، امریکا میں بھی اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو وہاں کہ شہروں نے حکومت کی بتائی گئی ایس او پیز پر عمل کیا اور جس نے عمل نہیں کیا تو سخت قسم کی کاروائیاں بھی کی گئیں۔

صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ایس او پیز تو بنا لیتے ہیں مگر عملدرآمد نہیں کرواتے اور نہ ہی خلاف ورزی پر کسی قسم کی کوئی سزا دی جاتی ہے۔ پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ خدارا کورونا کو مزاق مت سمجھیں یہ ایک خطرناک وباء ہے اور ہمیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ تمام احتیاط تدابیر پر عمل کر کے ہی ہم اس وبا کو کم کرسکتے ہیں۔