Aaj TV News

کراچی کے مرکزی تجارتی علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔

یہ واقعہ دہشتگردی کا واقعہ ہوسکتا ہے ، کیونکہ لوٹنے کی کوشش کرنے والے لوگ اس طرح دستی بموں اور اس قدر بھاری اسلحہ کے ساتھ نہیں آتے، ان کا ہدف صرف لوٹ مار ہوتا ہے اور وہ اپنے ساتھ اتنا ہی اسلحہ رکھتے ہیں جو ان کو لوٹنے میں مدد دیتا ہے۔

بظاہر دو دہشتگردوں نے حملہ کیا، مارے گئے ایک شخص کے ہاتھ میں دستی بم موجود ہے، دستی بم حملے کے بعد وہ اسٹاک ایکس چینج کے اندر داخل ہو ئے، واقعہ کی اطلا ع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب ریسکیو کے کچھ اہلکاروں کو بھی اندر داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اندر آپریشن مکمل ہوچکا ہے اور اب سرچنگ کا عمل جاری ہے ۔ دوسری طرف آئی جی نے ریڈزون میں ہونے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی۔

پولیس کے مطابق صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بناتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جبکہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے 2 شہری بھی جاں بحق ہوگئے ۔

دستی بم حملے اور فائرنگ میں 4 افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار، اسٹاک ایکسچینج کا سیکیورٹی گارڈ اور 2 شہری شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔

قانون نافذ کرنے والوں نے آپریشن کامیابی سے مکمل کرلیا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار جاری ہے۔