Aaj TV News

وزیراعظم فرانسوا فییون اور ان کی اہلیہ پینیلپی فییون اہلیہ کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی ایک عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو دھوکا دہی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم پر الزام تھا کہ انہوں نے 1990ء سے لے کر 2000ء کے دوران بطور رکن پارلیمنٹ اپنی اہلیہ کو اپنا پارلیمانی معاون ظاہر کیا، جس کے بدلے ان کی اہلیہ کو سرکاری خزانے سے لاکھوں یورو ادا کیے گئے حالانکہ ان کی اہلیہ نے کبھی بھی ان کے معاون کے طور پر کام نہیں کیا تھا۔

خبر ایجنسی کے مطابق عدالت نے الزام ثابت ہونے پر فرانسوا فییون کو 5 سال قید کی سزا سنا دی ہے جس میں سے 3 سال کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔ قید کے علاوہ 3 لاکھ 75 ہزار یورو جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے اور وہ آئندہ 10 سال تک کوئی بھی منتخب عوامی عہدہ اپنے پاس رکھنے کے لیے نا اہل بھی قرار دے دیے گئے ہیں۔

عدالت نے ان کی اہلیہ کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید اور پونے 4 لاکھ یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عرصے میں وزیراعظم کے عہدے ہر بھی فائز رہے ہیں۔ وہ 2017ء میں ملکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل اہم امیدوار تھے تاہم اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد ان کی صدارتی مہم بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔