Aaj TV News

اگر کوئی خاتون راستے سے گزر رہی ہوں، کہیں بیٹھی ہوں یا کسی تقریب میں شریک ہوتو عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ مردوں کی نظریں خود بخود خاتون کا جائزہ لینے لگتی ہیں۔ مردوں کے اس عمل کے حوالے سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیوں ہے؟ مرد آخر خواتین کو کیوں "گھورتے" ہیں؟

گھورنا یا بغور دیکھنا ایک غیر ارادی فعل ہے جسے کوئی معنی نہیں پہنائے جاسکتے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جو بھی خاتون کو گھورتا ہے اس کا کوئی خاص ایجنڈا یا کوئی خفیہ مقصد ہوتا ہے۔

شاید بعض حالات اس کے برعکس ہوں یعنی گھورنے والے بعض مرد کسی خاص مقصد کے تحت یہ عمل کررہے ہوتے ہیں، تاہم اس عمل کو عمومی طور پر ہر ایک سے جوڑ دینا مناسب نہیں یعنی کسی ایجنڈے یا مقصد کے تحت خواتین کو گھورنا۔

سعودی عرب کے میگزین الرجل میں شائع مضمون کے مطابق ایسی تصاویر بھی ہیں جن میں بعض ممالک کے اہم رہنماؤں کو خواتین کو گھورتے دکھایا گیا ہے. اس سے قطع نظر کہ وہ کون ہیں یا کس ملک سے ان کا تعلق ہے۔ تاہم زیرنظر مضمون میں ہم اس عادت پر بحث کررہے ہیں جس کا عنوان "مردوں کا عورتوں کو گھورنا" ہے۔

٭ مرد کا دماغ

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی مرد کے دماغ کو جانچنے یا پڑھنے کے لیے اس کی نظروں کے زاویے کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ عورت کو کیوں گھوررہا ہے۔

خواتین کو دیکھنے یا گھورنے کا یہ عمل اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے جو گاڑی، کمپیوٹر یا کسی اور دلچسپی کی چیز کو دیکھ کر ہوتا ہے۔

مرد کا دماغ کسی بھی عورت کے عکس کو مکمل صورت میں نہیں دیکھتا جبکہ اس کے برخلاف عورت کا دماغ کسی مرد کو مکمل طور پرجانچنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

اس حوالے سے مردوں اور خواتین کے گروپس پر تحقیق کی گئی جس میں انہیں جنس مخالف کی چند تصاویر دی گئیں، بعدازاں دوسری تصاویر جو ان ہی تصاویر سے لی گئی تھیں مگر وہ مکمل نہیں تھیں بلکہ جسم کے کچھ اعضا یا حصے کی تھیں اور ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ ان کی شناحت کریں تو خواتین نے درست شناخت بتائی جبکہ مردوں کے گروپ نے تصویر کی جزئیات کی جانب توجہ نہیں دی اور ان کا جواب تھا کہ ایسی فوٹو پہلے بھی دیکھی ہے۔

٭ فطرت

مرد کا ذہن فطری طور پر ہمیشہ ایک ساتھی کا متلاشی ہوتا ہے خواہ وہ شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی یہی متنوعہ پسند طبیعت اسے لاشعوری طور پر گھورنے پر مائل رکھتی ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ان خواتین میں اپنی شریک حیات سے بڑھ کر خوبی کا متلاشی ہو بلکہ اسکی فطرت اسے اس جانب مبذول کرتی ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ راوبط بڑھانے یا نئے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے بلکہ صرف دیکھنے کی حد تک ہی یہ معاملہ ہوتا ہے۔

٭ جنس

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مرد کے دماغ کی پروگرامنگ میں جنس کے اثرات شامل ہیں جس کی وجہ سے بھی وہ خواتین کو غیر ارادی طور پر گھورتا یا بغوردیکھتا ہے۔

بعض اوقات مرد کسی عورت کو دیکھ کر اپنی سوچ کے دائرے میں کہیں کھو جاتا ہے۔ اس احساس کو لاشعوری کیفیت کا فائدہ کمرشل کمپنیاں اٹھاتی ہیں اور وہ اپنی مصنوعات کی ترویج کےلیے خواتین کے ذریعے اشتہاری مہم چلاتی ہیں اور مرد محض اشتہاری مہم کے زیر اثر وہ اشیا خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

٭ تعارف

مردوں کی جانب سے عورتوں کو گھورنا یا بغور دیکھنا ایک طرح کا اشارہ بھی ہوتا ہے جس کا تعلق نسبتا شرمیلے مردوں سے ہے جو کسی بھی اجنبی عورت سے متعارف ہونے میں ہچکچاہٹ یا شرمیلے پن کا احساس رکھتے ہیں۔

شرمیلے مرد کسی بھی خاتون سے تعارف حاصل کرنے میں کافی دشواری محسوس کرتے ہیں اور وہ اپنے احساسات کا اظہارصرف نظر کے ذریعے ہی کرسکتے ہیں زبان سے اس کا اقرار ان کے لیے کافی دشوار ہوتا ہے۔

مرد کا عورت کو دیکھنا یا گھورنا اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ اس کی توجہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ اس سے متاثر ہوا ہے۔ دیکھنے کے دوران مرد کو اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ اس کی یہ نظریں خاتون کےلیے باعث شرمندگی یا اسے عدم اعتماد کا بھی احساس دلاتی ہیں۔