’واہ مودی جی شادی توڑ دی بچے کی‘

کسی بھی شخصیت یا رہنما سے متعلق لوگوں کی رائے میں تضاد ہونا ایک...
شائع 07 جولائ 2020 12:05pm

کسی بھی شخصیت یا رہنما سے متعلق لوگوں کی رائے میں تضاد ہونا ایک عام سی بات ہے لیکن بعض اوقات یہ تضاد کسی بڑے واقعے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

ایسا ہی انڈیا کے شہر کانپور میں ہوا جہاں شادی سے کچھ دن قبل ایک جوڑے نے اس بندھن میں بندھنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ کوئی نہیں بلکہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی تھے۔

انڈین میڈیا کے مطابق لڑکی جو ایک سرکاری نوکری کرتی ہیں، کو لگتا ہے کہ انڈیا کے بگڑتے معاشی حالات کی وجہ وزیراعظم نریندر مودی ہیں جبکہ اپنا کاروبار کرنے والا لڑکا وزیراعظم مودی کا حامی ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق شادی سے قبل جوڑے نے ایک مقامی مندر میں ملاقات کا فیصلہ کیا تا کہ شادی سے متعلق معاملات طے کر لیے جائیں۔

تاہم انڈین وزیراعظم کے بارے میں لڑکے اور لڑکی کی رائے مختلف ہونے کی وجہ سے بات نہ بن سکی، جس کے بعد ان دونوں نے باہمی مشاورت سے رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے جوڑے کے اس فیصلے پر دلچسپ تبصرے ہونے کیے جا رہے ہیں۔ ٹوئٹر صارف گورو کا کہنا تھا کہ ’ہمیشہ کی طرح عورت ٹھیک ہے‘۔

Twitter
Twitter

بیشتر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے سیاست کا تعلق صرف کاروباری افراد یا مردوں سے ہوتا تھا لیکن اب چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں، دونوں ہی سیاسی پسند اور ناپسند کے حوالے سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ آگاہ ہیں۔

ٹوئٹر صارف راج کمار نے لکھا کہ ’سوشل میڈیا کا شکریہ جس کی وجہ سے سیاست پبلک سے پرسنل ہوتی جا رہی ہے۔‘

Twitter
Twitter

ایک اور صارف سینجوتی نے کہا کہ 'یہ شادی ختم کرنے کی بہت جائز وجہ ہے۔'

Twitter
Twitter

مہمن بھٹ نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’میں نے یہ خبر صبح پڑھی واہ مودی جی شادی توڑ دی بچے کی!'