Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

کراچی میں مون سون کی پہلی بارش سے شہریوں کے چہرے کھل اٹھے، گرمی اور حبس کی شدت میں کمی کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن کراچی والوں کی زندگی میں سکون کہاں۔۔۔ بارش کی چند بوندیں پڑتے ہی شہر بھر میں کے الیکٹرک کا سسٹم بیٹھ گیا اور کئی علاقوں میں بجلی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد حسب روایت شہر کی مختلف شاہراہوں پر پانی بھی جمع ہوگیا، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ محکمہ موسمیات خبردار کرتا رہا میڈیا چیخ چیخ کر بتاتا رہا مگر حکومت خواب خرگوش کے مزے لوٹتی رہی حکومت کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے شہر میں پورا سال نالوں کی صفائی نہیں کی جاتی جس کے باعث گندگی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور جب بارشوں کے الرٹ جاری ہوتے ہیں تو انتظامیہ کی دوڑیں لگ جاتی ہیں مگر اس کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

کہاں جائیں کراچی والے؟ کس سے جاکر فریاد کریں؟ شہر سے 17 سیٹیں لینے والی حکمران جماعت بھی اس شہر کے مسائل کو حل کرنے کیلئے نظر نہیں آتی، سندھ حکومت جس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے مگر عمل نہیں ہوتا اور پھر سونے پر سہاگا میئر کراچی جناب وسیم اختر صاحب کے تو کیا ہی کہنے ہیں جب ان سے شہر کے بارے میں سوال کیا جائے تو اختیارات کا رونا روتے ہیں۔

مئیر صاحب اگر آپ کے پاس شہر کا کچرا صاف کرنے کا بھی اختیار نہیں تو پھر معذرت کے ساتھ آپ کا اس مئیر کی سیٹ پر براجمان ہونے کا بھی اختیار نہیں ہے، کام بھی نہیں کرنا اور استعفی دے کر گھر بھی نہیں جانا بس اس شہر کے لوگوں کا خون چوسنا ہے۔ کبھی ایم کیو ایم تو کبھی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کراچی کی کمان سنبھالی مگر افسوس کے چہرے تبدیل ہوتے رہے اس شہر کی حالت تبدیل نہ ہوئی مسائل بڑھتے گئے صورتحال بد سے بد تر ہوتی چلی جارہی ہے مگر خیر چھوڑیں کس کو فرق پڑتا ہے فرق پڑتا ہے تو صرف عوام کو پڑتا ہے۔

دوسری طرف رہی سہی کسر کے الیکٹرک پوری کررہی ہے، کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے شہر بھر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے یہاں تک کہ لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔

عوام جب کے الیکٹرک سے رابطے کرتے ہیں تو ٹیکنیکل فالٹ سمیت دیگر مختلف قسم کے بہانے بنا کر شہریوں کو تڑپایا جاتا ہے۔

کے الیکٹرک کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی وجہ گیس کی فراہمی میں کمی اور فرنس آئل ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کے الیکٹرک کے اس دعوے کو مسترد کرچکا اور سوئی سدرن کے مطابق کے الیکٹرک عوام کو گمراہ کررہا ہے۔

کے الیکٹرک نے تو ظلم کی انتہا کردی ہے کراچی والے جائیں تو جائیں کہاں؟ وزیراعظم صاحب آپ کسی ایک صوبے کی وزیراعظم نہیں ہیں آپ کراچی کے بھی وزیراعظم ہیں اس شہر میں سب سے زیادہ نشستیں آپ کی جماعت نے حاصل کیں خدارا کراچی والوں پر رحم کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور کراچی کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ حکومت اور کے الیکٹرک کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کریں۔ اس شہر کو لاوارث کی طرح مت چھوڑیں مسائل کو حل کریں اور کے الیکٹرک کو بھی لگام ڈالیں۔

تحریر: کاوش میمن

ٹوئٹر آئی ڈی: @Kawish_Official

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔