Aaj TV News

BR100 5,282 Increased By ▲ 24 (0.46%)
BR30 27,601 Increased By ▲ 46 (0.17%)
KSE100 48,305 Increased By ▲ 53 (0.11%)
KSE30 19,479 Decreased By ▼ -59 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 939,931 1,194
DEATHS 21,633 57
Sindh 327,021 Cases
Punjab 343,703 Cases
Balochistan 26,152 Cases
Islamabad 82,065 Cases
KP 135,569 Cases

اسلام آباد: تحریک انصاف کی حکومت اب تک 10 ہزار ارب کا قرضہ لے چکی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مئی کے آخر تک اوسطاً 14.2 ارب یومیہ کے حساب سے 34.5 کھرب روپے ہو گیا ہے، وفاقی حکومت کا 34.5 کھرب روپے کا قرض ان واجبات کے علاوہ ہے جس کیلئے حکومت بالواسطہ قرض دہندگان کے مقروض ہے، اس طرح مجموعی ملکی قرض مرکزی حکومت کے قرض سے کہیں زیادہ ہے ،جس کے اعداد و شمار اگلے ماہ دستیاب ہوں گے۔

مثال کے طور پر مارچ 2020 کے اختتام تک مجموعی ملکی قرض بڑھ کر 35.2 کھرب روپے ہوچکا ہے۔گذشتہ مئی میں وفاقی حکومت کا قرض مرکزی بینک اور سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کے قرض اور واجبات کے علاوہ 29.8 کھرب روپے تھا، سالانہ بنیادوں پر کرنسی کی قدر میں کمی ، ٹیکس محصولات میں عارضی کمی اور کورونا وائرس کے تدارک کیلئے غیر متوقع اخراجات کی وجہ سے وفاقی حکومت کا قرض 15.8 فیصد یا 4.7 کھرب روپے بڑھ گیا۔

ضمنی گرانٹ کی بجٹ کتاب سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران مئی سے جون میں جو قرضہ حاصل کیا، اس میں کورونا وبا کے خلاف 289.4 ارب روپے خرچ کئے گئے جو 6 فیصد بنتا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر ملکی قرضوں میں 10.2 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ کر چکی ہے ، قرضوں میں یہ 44 فیصد کا اضافہ ملک کے لئے انتہائی تشویش ناک ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کے باوجود جون میں ترسیلات زر کی وصولی میں 50.73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔