Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

امریکہ کے خلائی ادارہ ناسا کی جانب سے فٹ بال کے میدان جتنا بڑا غبارہ خلا کی سرحد پر بھیجا جائے گا جس کا مقصد یہ جاننا ہو گا کہ ستارے اور سیارے کیسے تخلیق ہوتے ہیں۔

اس مشن میں دیوقامت غبارے کے علاوہ خاص قسم کی ٹیلی اسکوپ بھی بھیجی جائے گی جس سے ایسی روشنی کو پرکھا جا سکتا ہے جو انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔

جس غبارے کو اس تجربے میں استعمال کیا جائے گا وہ پھولنے کے بعد 400 فٹ چوڑا ہوگا۔ ٹیلی اسکوپ کے علاوہ ایک کولنگ سسٹم بھی ہو گا جو آلات کو ٹھنڈا رکھے گا۔

‘ایستھروس’ نام کا یہ مشن انٹارکٹیکا سے دسمبر 2023 میں روانہ کیا جائے گا اور تین ہفتوں تک فضا کے اختتام پر اس جگہ رہے گا جہاں اوزون کی تہہ موجود ہے۔

ناسا کے سائنس دان زمین سے ٹیلی اسکوپ کو کنٹرول کر سکیں گے اور اس کا ڈیٹا فوری تجزیے کے لیے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔

فارانفراریڈ ویولینتھ روشنی کو انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا لیکن ان کی مدد سے خلا کے ان مقامات میں گیس کی مقدار اور رفتار کا پتا چلایا جاسکتا ہے جہاں ستارے تخلیق ہورہے ہوں۔

بنیادی طور پر اس مشن کے دو اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک میسیئر 83 نام کی کہشاں جو زمین سے ڈیڑھ کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور روشن ترین کہکشاں ہے۔ دوسرا ہدف ٹی ڈبلیو ہائیڈرائی نام کا ستارہ ہے جس کے گرد گَرد اور گیس کا غبار ہے جہاں نئے سیارے تخلیق ہوسکتے ہیں۔

ٹیلی اسکوپ ستاروں کی تخلیق اور اس عمل کی معلومات جمع کرے گی جسے ‘اسٹیلر فیڈبیک’ کہا جاتا ہے۔ جب عظیم الجثہ ستارے ٹوٹتے ہیں تو وہ اپنے مواد کو خلا میں پھینکتے ہیں۔

ان کے پھٹنے سے مواد بکھر بھی سکتا ہے اور ایک جگہ جمع ہو کر نئے ستارے بھی بن سکتے ہیں۔ اسٹیلر فیڈبیک کے بغیر کہکشاں کا مادہ اور گیس مل کر نئے ستارے نہیں بنا سکتے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے جدید کمپیوٹر اس عمل سے ناواقف ہیں۔ ایتھروس کے مشن کی بدولت وہ اس عمل کے تھری ڈی نقشے بنانے کے قابل ہوجائیں گے اور کمپیوٹر کہکشاں کے ارتقا کو نقل کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔