Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

کراچی میں نالوں کی صفائی سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ دو نالوں کی صفائی کی تصاویر دکھا کر کہتے ہیں کراچی صاف کردیا، نالوں کی صفائی ہو رہی ہے تو پانی کیسے بھر گیا، آپ چاہتے ہیں ہم این ڈی ایم اے کو کام کرنے سے روک دیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی میں نالوں کی صفائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔

اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کمشنر کراچی اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہمیں 30اگست تک موقع دیں نالوں کی صفائی کاکام جاری ہے،ہم ریکارڈلے آئےہیں نالوں کی صفائی جاری ہے۔

سیکریٹری بلدیات نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی،رپورٹ میں کہا گیا کہ گجرنالےمیں50فیصداورسی بی ایم میں20فیصدصفائی ہوچکی تھی،جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اگر صفائی ہوگئی تھی تو پانی کیسے آیا ؟ ۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ بارش ہوتی ہے تو پانی تو آتا ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توایساہی کام ہوتا ہےجیسا ہرجگہ ہوتاہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے اچھا کام ہورہا ہے،جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ مطلب ورلڈ بینک کا پیسہ بھی گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ تصاویر3اگست اوررپورٹ11اگست کی ہیں ،وزیراعلیٰ نے30اگست تک صفائی کاکام مکمل ہونےکایقین دلایاہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا توآپ این ڈی ایم اےکےساتھ مل کرکام کرلیں کیامسئلہ ہے؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کام کررہی ہے ،30اگست تک کام مکمل ہوجائے گا،ایم ڈی ایم اےمشینری،لیبرہماری استعمال کرےگی،ایم ڈی ایم اےکا صرف سپروائزر کھڑاہوگا ۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا آپ رپورٹ لے کرآئےہیں،اس کا مطلب کل کچھ ہوا ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق کوکل نالے صاف کرنے کا حکم دیاگیاتھاتوآج اچھی تصویریں دکھائی جارہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ یہ ہےورلڈبینک کی فنڈنگ خطرےمیں پڑگئی،کل ورلڈبینک پوچھ لےیہ این ڈی ایم اےکون ہے؟ان کوفنڈہضم کرناہے،آپ بتائیں اس سےپہلےکون سافنڈ صحیح استعمال ہوا ہے؟،5 تصویریں پیش کرکےکیاثابت کرنا چاہتے ہیں ؟ کراچی کی ساڑھے3کروڑ کی آبادی ہے ۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں این ڈی ایم اےکو روک دیا جائے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 30 اگست تک موقع دیں،سی ایم نے یقین دلایا ہے کہ ہوجائے گا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نالوں کی صفائی کی تصاویر پیش کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، دو نالوں کی صفائی کی تصاویر دکھا کر کہتے ہیں کراچی صاف کردیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ این ڈی ایم اے کو نالے صاف کرنے کا کہا ہے این ڈی ایم اے جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے، سندھ حکومت لوگوں کی مشکالات کم کرے، آپ چاہتے ہیں ہم این ڈی ایم اے کو کام کرنے سے روک دیں ۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے نالوں کی صفائی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کردی۔