اگر نیلامی کےعمل میں کچھ الٹا سیدھا ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے،سپریم کورٹ
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وندرڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ بد قسمتی ہے ایسے منصوبوں پر کل رقم کا صرف 60 فیصد خرچ ہوتا ہے، اگر نیلامی کے عمل میں کچھ الٹا سیدھا ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے ۔
جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے وندر ڈیم تعمیر سے متعلق بلوچستان حکومت کی اپیل کی سماعت کی ۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ڈیم کے قومی منصوبے کو روک نہیں سکتے، ڈیم کی تعمیر روکنے سے لاگت بڑھ جائے گی۔
تعمیراتی کمپنی کے مالک نے وکیل کرنے کیلئے 4 ہفتوں کی مہلت مانگی ،جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ منصوبے کی لاگت بڑھی تو تعمیراتی کمپنی ادا کرے گی ۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ڈیم پر کام روکنے سے 10 ارب کا منصوبہ 50ارب کا ہوجائے گا، منصوبے کی نیلامی کا پراسس شفاف ہونا چاہیئے،اگر نیلامی کا عمل کچھ الٹا سیدھا ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے،بدقسمتی ہے ایسے منصوبوں پر کل رقم کاصرف60 فیصد خرچ ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے نجی تعمیراتی کمپنی کو وکیل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک روز کیلئے ملتوی کردی ۔
یاد رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈیم کی تعمیر نیلامی کا طریقہ اوپن کرنے کا حکم دیا تھا، صوبائی حکومت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، یہ وندر ڈیم لسبیلہ میں تعمیر کیا جانا ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔