بلاول بھٹو کی وزیراعظم سے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اپیل
میرپورخاص:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان سے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرپور خاص سیلاب میں ڈوب گیا،کیا این ڈی ایم اے صرف کراچی کا ہے؟ کسانوں کو ریلیف دینا ہوگا،اس وقت ایک نہیں 2پاکستان ہیں۔
میرپور خاص میں پریس کانفرنس کرتےہوئے پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ بھر میں 25لاکھ افراد بارشوں سےمتاثر ہوئے،سندھ کے کچےکےعلاقے لوگوں کو منتقل کیا ہے،پوار میرپور خاص سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،کورونابحران کے بعد بارشوں سے معیشت کو نقصان ہوا،موجود صورتحال میں کسانوں کو ریلیف دینا ہوگا،کسانوں کو ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بارشوں اور سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں جانا چاہیئے ،سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے ٹیمیں موجود ہیں،کراچی میں بارش رکی تومیرپورخاص میں ہورہی تھی ،بارشوں سے اندورن سندھ میں سب سےزیادہ نقصان ہوا،ایل بی او ڈی منصوبے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے،نیشنل ڈیزاسسٹر کیلئے سب کو ایک ہونا ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم،وزیراعلیٰ سندھ اوران کی ٹیم کی طرح یہاں آکربیٹھیں،واضح نظر آرہا ہے نیا پاکستان میں ایک نہیں،2پاکستان ہیں،کیا این ڈی ایم اے صرف کراچی کا ہے؟کراچی کے3نالوں سے باہر نکلیں،میرپورخاص اور سانگھڑ دکھائیں،اسلام آباد میں بیٹھ کر میرپورخاص کا نقشہ نہیں کھینچا جاسکتا۔
چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سندھ حکومت سے جو ہوسکتا ہے وہ کرسکتی ہے،آصف علی زرداری کو عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے،آصف زرداری کخلا ف نیب کیسز سیاسی اور مذاق ہیں،حکومت اور اس کےاتحادی اپنےخلاف کیسزمیں عدالتوں کاسامناتک نہیں کررہے،کیس سندھ کا لیکن ٹرائل راولپنڈی میں ہورہا ہے،اربوں کھربوں روپےکرپشن کےالزام لگائے جارہےہیں،توشہ خانہ ریفرنس ایسا ہے جیسے ایس ایچ او جعلی الزام لگاکرظلم کرے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی مشکل وقت میں عوام کےساتھ ہے،2011میں اس طرح کی بارش ہوئی توپوری دنیا متوجہ ہوئی،بارش سےبلوچستان کو بھی نقصان پہنچا ،این ڈی ایم اے پر3نالوں سے باہر نکلنےپر پابندی نہیں،این ڈی ایم اے پورے ملک کا ادارہ ہے،این ڈی ایم اے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ کیا پاناما صرف نوازشریف تک محدود ہے؟اگر ہم سب ایک پاکستانی ہیں تووزیراعظم کیخلاف کب جےآئی ٹی بنےگی،آصف زرداری پر الزام ہے تحائف ملےتو پیسےادا کیوں نہیں کئے؟ہماری صرف ایک درخواست ہے،انصاف ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک معاون خصوصی وزیراعظم سےبھی زیادہ طاقتور ہیں،جو اہمیت عمران خان کو حاصل نہیں وہ معاون خصوصی کو حاصل ہے،ایک معاون خصوصی روزانہ کرپشن کا راگ الا پتا ہے،بیرون ملک پراپرٹی بنانےوالےمعاون خصوصی کب وضاحت دیں گے،معاون خصوصی سےکوئی نہیں پوچھ سکتا بیرون ملک جائیدادیں کہاں سےآئیں،خان صاحب تو استعفیٰ ماننے کو بھی تیار نہیں ہوئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب کو سابق صدر سے ایسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیئے،توشہ خانہ نہیں،این ایف سی اور18ویں ترمیم کا حساب لیاجارہاہے،ہمت ہےتو18ویں ترمیم این ایف سی دینےپرایف آئی آر کاٹیں ،یہ کھوکھلانظام زیادہ دیر نہیں چلے گا،آج تک خورشیدشاہ جیل میں ہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔