کراچی پیکج میں سندھ حکومت کا حصہ 750 ارب قرار
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سات سو پچاس ارب روپے سندھ حکومت کے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اب منصوبوں پر کام شروع کرے، نیوز کانفرنس کا وقت گزر گیا۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اب اگر ایسا کیا گیا تو کراچی کے عوام جوتے ماریں گے،سیاست اور ڈرامے بازی اب نہیں چلے گی۔
اس سے قبل سندھ اور وفاق میں فنڈز کے اعلان پر تنازعہ شدت اختیار کرگیا تھا، اور سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ وفاق نے اعدادوشمار بڑھا کر پیش کیے ہیں کیونکہ کراچی پیکج میں سندھ کا حصہ زیادہ ہے جس کے بعد اسد عمر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کراچی پیکج میں سات سو پچاس ارب روپے سندھ کے ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کراچی کےلیے1100ارب روپےکےپیکج کا اعلان کردیا ہے۔وزیراعظم نےبتایا کہ یہ پیکج وفاق اورصوبائی حکومت نےمل کرترتیب دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے لوگوں نے مشکل وقت گزارا،اب مسائل حل ہونگے۔
کراچی کےگورنرہاؤس میں ہفتےکی دوپہرپریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کےلیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ بھی موجود تھے۔انھوں نے بتایا کہ کراچی میں نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کرےگی۔ بےدخل ہونے والوں کے لیے رہائش کا انتظام سندھ حکومت کرےگی۔
انھوں نے بتایا کہ سوریج سسٹم کےلیے بھی 1100 ارب روپے میں رقم رکھی گئی ہے۔ سالڈ ویسٹ کےلیے بھی پیکج میں رقم موجود ہوگی۔ کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل پر انھوں نے کہا کہ سرکلرریلوے سمیت سڑکوں کے مسائل کے حل کےلیے بھی پیکج میں رقم رکھی گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کوآرڈینشن کمیٹی کے ذریعےکراچی کےمسائل حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،کراچی میں مختلف اداروں کی حدود ہے،پی سی آئی سی کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرزکوایک مقام پر جمع کرنا ہے،سب مل کر کراچی کے مسائل حل کریں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ امید ہے کہ کراچی کے عوام کے مشکل وقت کا اندازہ ہے،اب مسئلے حل کریں گے۔
انھوں نے بتایا کہ سندھ میں اندرون صوبے بارشوں سے ہونے والی تباہی سے وزیراعلیٰ نے آگاہ کیا، مسائل حل کرنےکےلیے کام کریں گے۔
عمران خان نے بتایا کہ ایک سال میں پہلا فیز اور تین سال میں تمام منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔