Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,744 667
DEATHS 6,692 19

کراچی : انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے،عدالت نے 2ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔

سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت میں 2ستمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسے 17ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ 22ستمبر تک مؤخر کردیا، جو آج سنائے جانے کا امکان ہے،بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آنے والے سانحے کا مقدمہ تقریباً 9سال تک زیرِسماعت رہا۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر واقع گارمینٹس فیکٹری علی انٹرپرائزز میں بھتہ نہ دینے پرلگائی جانے والی آگ میں کئی بے قصور خاندان اجڑ گئے تھے، 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری کے باہر موجود بے بسی کی تصویر بنے لواحقین اپنے پیاروں کی چیخ و پکار سن کر بھی کچھ نہ کرسکے جبکہ فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ میں 259افراد زندہ جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

لواحقین کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جس طرح کی امداد ہونی چاہیئے،وہ نہیں ملی سکی۔

چھ فروری 2015 کو عدالت میں رینجرز نے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔

سانحہ بلدیہ کیس انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں آج مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ۔ مقدمےمیں استغاثہ کی جانب سے768 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی گئی تھی جس میں سے 400 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں جبکہ 364 گواہوں کے نام نکال دیئے گئے تھے ۔

جن گواہان کے بیانات قلمبند کئے گئے ان میں زخمی، عینی شاہدین، جاں بحق افراد کے لواحقین، ڈاکٹرز، فارنزک اور کیمیکل ایکسپرٹ، فیکٹری مالکان ، جے آئی ٹی کے تفتیش کار ، سابق و موجودہ تفتیشی افسران سمیت دیگرمحکموں کے افسران شامل ہیں ۔

مقدمے میں متحدہ کا بلدیہ سیکٹر انچارج رحمان بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں جبکہ متحدہ رہنما رؤف صدیقی ، علی محمد ، ارشد محمود ،فضل احمد جان ، شاہ رخ لطیف ،عمر حسن قادری اور ڈاکٹر عبدالستار عبوری ضمانت پر رہا ہیں جبکہ مقدمے میں متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری ، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہونے اور دیگر ملزمان کے تاخیری حربے رہے ، عدالت کی جانب سے حماد صدیقی کے کئی ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے تاہم تفتیشی حکام ملزم کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے ملک واپس لانے میں ناکام ر ہے ، ملزم کی گرفتاری سے مزید شواہد حاصل کئے جاسکتے تھے ۔

ذرائع نے بتایا کہ مقدمہ تاخیر ہونے کی ایک وجہ جے آئی ٹی پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہونا بھی تھا ، جے آئی ٹی نے جن ملزمان کو نامزد کیا تھا پولیس نے چالان میں انہیں بے قصور قرار دے دیا تھا جبکہ جے آئی ٹی کےسامنے ملزم رحمان بھولا نے حماد صدیقی کے حکم پر فیکٹری کو آگ لگانے سمیت سنسنی خیز انکشافات کئے تھے اسے بہتر طریقے سے فالو نہیں کیا جاسکاتھا جس کے باعث نامزد ملزمان نے عبوری ضمانتیں حاصل کرلیں ۔

اس کے علاوہ عبوری ضمانتوں پر رہا ملزمان کی جانب سے تاخیری حربوں کے باعث بھی مقدمہ تاخیر کا شکار رہا، ملزمان کی جانب سے مختلف اوقات میں مختلف درخواستیں عدالت میں داخل کی جاتی رہیں ، اس کے علاوہ ایک ملزم علی حسن قادری کی درخواستیں نمٹنے میں 6 ماہ کا عرصہ گزرا ،جو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد مفرور ہوگیا ، 700سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے ہیں ۔