Aaj TV News

BR100 4,671 Increased By ▲ 6 (0.13%)
BR30 18,834 Increased By ▲ 160 (0.86%)
KSE100 45,369 Increased By ▲ 297 (0.66%)
KSE30 17,576 Increased By ▲ 146 (0.84%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,254 414
DEATHS 28,737 9
Sindh 475,820 Cases
Punjab 443,185 Cases
Balochistan 33,484 Cases
Islamabad 107,722 Cases
KP 180,075 Cases

فرانس کے درالحکومت پیرس میں مسلمان نوجوان نے طلبا و طالبات کو "آزادیِ اظہار" کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے دکھانے والے ملعون استاد کو چھریوں کے وار سے قتل کردیا، جسے پولیس نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیرس کے شمال مغرب میں واقع کونفلان سینٹ اونوریئن میں پیش آیا۔ کئی روز قبل اسکول کے استاد نے بچوں سے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکوں پر گفتگو شروع کی تھی جس پر کئی والدین نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

توہینِ رسالت ﷺ پر ہلاک ہونے والے استاد نے کچھ روز قبل بچوں کو حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بھی دکھائے تھے۔ بعد ازاں چیچن نوجوان نے شاتم اسلام استاد پر خنجر سے حملہ کرکے اسے مار دیا۔ فرانسیسی پولیس نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق 18 سالہ مسلمان نوجوان کو لڑکوں کے اسکول سے باہر آتے ہوئے 600 میٹر دوری پر گولی کا نشانہ بنایا گیا جس کے ہاتھوں میں خنجر بھی دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس نے توہین اسلام کے مرتکب استاد کی گردن پر حملہ کیا تھا۔

پولیس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس عمل کے خلاف بہت سے والدین نے شکایت درج کرائی تھی تاہم استاد کو مارنے والے شخص کا کوئی شناسا اسکول میں نہیں پڑھتا۔ دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کا تعلق چیچنیا سے ہے جو فرانس میں پناہ گزین تھا۔