Aaj TV News

BR100 4,131 Increased By ▲ 20 (0.48%)
BR30 20,689 Increased By ▲ 67 (0.32%)
KSE100 39,863 Increased By ▲ 231 (0.58%)
KSE30 16,752 Increased By ▲ 58 (0.35%)

امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنس دانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کے ٹھوس شواہد حاصل کرلئے ہیں۔ اس نئی تحقیق سے چاند پر انسانوں کو بسانے کے منصوبے کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ناسا کے سائنس دان چاند پر دہائیوں سے پانی کی کھوج میں تھے۔ حالیہ کامیابی سے انہیں دنیا بھر سے داد وتحسین کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کا میڈیا اس خبر کو شہ سرخیوں میں جگہ دے رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چاند پر پانی کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ اس سیارے پر زندگی کے آثار موجود ہیں اور وہاں انسانوں کو بسایا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ 20 جولائی 1969ء کو امریکی خلا بازوں نیل آرم سٹرانگ، بزآلڈرن اور مائیکل کولنز نے چاند کی سطح پر پہلی مرتبہ قدم رکھا تھا۔ اس مشن کو اپالو 11 کا نام دیا گیا تھا جو امریکی ریاست فلوریڈا کےکینیڈی خلائی مرکز سے خلا بازوں کو لے کر چاند کی جانب روانہ ہوا تھا۔

اب حالیہ تحقیق کے مطابق چاند میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پانی موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی میں پانی کی مقدار تقریباً ایک ہزار کلوگرام مٹی میں 12 اونس (354 ملی لیٹر) یعنی 12 اونس فی مربع میٹر پائی گئی ہے۔ محققین کو ابھی چاند پر موجود پانی کے ذخائر کی نوعیت کو مذید سمجھنا ہے جس سے مستقبل میں چاند پر جانے والے محققین کو آسانی ہوگی۔

اس طرح خلائی سفر کے اخراجات میں کمی ہوگی اور چاند پر خلائی اڈا بنانا اور استعمال کرنا بھی زیادہ سستا ہوسکتا ہے۔ چاند پر موجود پانی کو نکالنے سے مستقبل میں چاند پر راکٹ کا ایندھن بنانا سستا عمل ہوگا اور مستقبل میں چاند سے لوگ واپس زمین پر آنے یا وہاں سے کہیں اور جانے کے لیے وہیں موجود پانی سے ہائیڈروجن اور آکسیجن بناسکیں گے جو کہ عام طور پر خلائی گاڑیوں یا راکٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔

ناسا منصوبہ بندی کر رہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں چاند کے قطبی حصے میں مشن بھیجے جائیں جبکہ طویل المدتی بنیاد پر چاند پر مستقل آبادی بنائے جانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

خیال رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 2024ء میں چاند پر تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون اور اس کے ساتھ ایک مرد کو بھیجے گا تاکہ 2030ء میں ایک بڑی چھلانگ لگاتے ہوئے مریخ پر انسان کو بھیجنے کی تیاری کی جا سکے۔