Aaj TV News

BR100 4,442 Decreased By ▼ -229 (-4.9%)
BR30 17,576 Decreased By ▼ -1258 (-6.68%)
KSE100 43,395 Decreased By ▼ -1974 (-4.35%)
KSE30 16,778 Decreased By ▼ -798 (-4.54%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

دنیا بھر میں مہنگے جانداروں میں کئی پالتو جانور اور پرندے شامل ہیں، مگر اس وقت دنیا بھر میں جس پرندے کے چرچے ہورہے ہیں وہ ایک کبوتر ہے۔

بیلجیئم میں موجود اس کبوتر کی قیمت اس وقت پندرہ لاکھ امریکی ڈالرز سے زیادہ بتائی جارہی ہے، اگر پندرہ لاکھ ڈالرز کو پاکستانی روپے میں جانچنے کی کوشش کریں تو یہ سیدھے سیدھے آج کی قیمت خرید میں 23 کروڑ ستانوے لاکھ روپے سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔

کبوتر کو ماضی میں پیغام رسانی کے ساتھ اڑان بھرنے جیسے کھیلوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مہنگے ترین کبوتر کی بھی خاصیت یہ ہی ہے۔ یہ بہت سے عالمی اور مقامی کبوتربازی کے مقابلے جیت چکا ہے۔ اس کا مالک اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں روپے کماتا ہے۔ حال ہی میں ایک مقابلہ جیتنے کے بعد اس کبوتر کو خریدنے والوں نے اس کی قیمت پندرہ لاکھ ڈالر تک لگائی ہے۔

بیلجیئم میں کبوتر بازی کے مقابلوں کے لیے تیز رفتار کبوتروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبوتروں کے مقابلے کے ماہر وان ڈی واوور نے اس کبوتر کی پرورش بچوں کی طرح کی ہے۔ مگر جب سے اس کی قیمت لگائی گئی ہے اس وقت سے وہ اب چاہے رہے ہیں کہ اس کو فروخت کردیا جائے ، مگر ان کا کہناہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر اس کے حساب سے کم قیمت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کبوتر قومی مقابلوں میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ یہ دراصل مادہ کبوتری ہے۔ جس کا نام اس نے کِم رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں سب کبوتروں میں یہ قیمتی ترین کبوتر ہونے کا اعزاز حاصل کرچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس کی بولی لگائی گئی تھی۔ جس میں اس کی بولی 13 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ جس کے بعد بولی روک دی گئی۔

اس کے مالک کا کہناہے کہ اب اگر دوبارہ بولی لگائی گئی تو اس کو پندرہ لاکھ ڈالرز میں فروخت کرنے کے بارے میں سوچ سکتاہے۔

ہوک وان ڈی واوؤر نے اس کی نسل کے بارے میں بتاتے ہوئے مقامی میڈیا سے اظہار خیال کیا کہ یہ جس نسل سے تعلق رکھتا ہے وہ تیز رفتار پرواز کے زبردست ماہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے اس کی سیکیورٹی کے لیے سیکیورٹی کمپنی سے معاہدہ بھی کیا ہے تاکہ کوئی اسے چرا نہ لے جائے ۔ سیکیوڑی گارڈز اس کی 24 گھنٹے نگرانی بھی کرتے ہیں۔