Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

چیئر مین پیپلز پارٹک بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں آج پختونخواہ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔سب کا مطالبہ ہے گو عمران گو۔ پختونخوا کی دھرتی غیرتمندوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔انہوں نے اپنی سرحدوں کے دفاع کےلئے جان کی قربانی دی۔دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت قبول کی۔

پشاور میں پی ڈی ایم جلسےسے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں پاکستانی پرچم جمہوری نظام کی وجہ سے لہرایا جارہا ہے۔ان سلیکٹڈ میں دہشتگردوں کیخلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔ان بزدلوں نے دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کیخلاف آواز نہیں اٹھائی۔

انہوں نے کہااگراین آر او ملا ہےتو اے پی ایس کےبچوں کےقاتلوں کو ملا ہے۔این آر او ملا ہے تو احسن اللہ احسان کو ملا ہے۔ہمارے بچوں کے قاتلوں کو جیل سے نکالا گیا۔یہ کیسی جمہوریت ہے کہ اتنے بڑے دہشتگرد کو نہیں سنبھال سکے۔

بلاول بھٹو نے کہاہم انکو اس دھرتی اور عوام کی قسمت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔آج بھی دہشتگردی میں اضافہ ہورہا ہے۔ہم حکومت کو عوام کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہاں کے عوام نے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ہم ان کٹھ پتلیوں کوپھرسے یہ سلسلہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پختونخوا کے عوام کو لاوارث چھوڑا گیا ہے۔فاٹا کے عوام کے ساتھ معاوضہ دینے اور آبادکاری کاوعدہ کیاگیاتھا۔افسوس کہ آج بھی پختونخوا کےبجٹ میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ان لوگوں کومعاوضہ نہیں دیتے۔یہ پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ پختونخوا کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہاآپریشن میں ہونے والے بے گھر افراد کا خیال نہیں رکھا گیا۔فاٹا کو اب بھی اسکا حق نہیں دیا جا رہا ہے۔لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔غیرقانونی حراستی مراکز کا سلسلہ جاری ہے۔عدالتی حکم تھا کہ ان مراکز کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہاجسٹس وقار سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ان جیسے بہادر اور غیرت مند ججز بھی ہیں۔ان جیسے ججز میں آمریت کیخلاف فیصلے دینے کی ہمت ہے۔جسٹس وقار سیٹھ صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھارہا ہے۔انکی نالائقی کی وجہ سے پہلے چینی اور پھرآٹے کا بحران ہوا۔اب گیس کا بھی بحران ہوگا۔آپ بجلی اور گیس کے بلوں میں اس نالائق حکومت کا بوجھ اٹھارہے ہیں۔

انہوں نے کہاپختونخوا کو اسکا حصہ نہیں دیا جارہا۔160 ارب روپے سے ہم کیا کچھ نہیں کرسکتے تھے۔یہ آپکو آپکا حصہ نہیں دے رہے۔

سی پیک سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاحکومت میں نہیں تھے تو کہتے تھے سی پیک میں پسماندہ علاقوں کا بھی حصہ ہونا چاہیئے۔اب حکومت میں ہیں تو پسماندہ علاقوں میں کوئی کام نہیں کیا جارہا۔ ہر طرف سے یہ ظالم حکومت آپکی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا اگر یہ آپکے نمائندے ہیں تو آپ کوگیس اور ہائیڈل پاور کی رائلٹی کیوں نہیں ملتی۔یہ آپ کے نہیں سلیکٹرز کے نمائندے ہیں۔انہوں نے نجکاری کے نام پر پختونخوا میں دکان کھول لی ہے۔یہاں کے ادارے اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاجلسے روکنےکےلئےہمیں کوروناسےڈراناچاہتے ہیں۔جب ڈاکٹرز اور نرسز کی تنخواہ میں اضافہ کی بات ہوتی ہےتوکورونابھول جاتے ہیں۔جب یہاں کہ اسپتالوں کے ملازمیں کوریگولرائز کرنے کی بات ہوتی ہے تو کورونا بھول جاتا ہے۔ہمیں اس وباء کے ساتھ اس غیر جمہوری نظام کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاعوام مہنگائی کےسونامی میں ڈوب رہے ہیں۔ان حکمرانوں کی وجہ سے آٹا، چینی، آلو، پیٹرول، پیاز اوربجلی مہنگی ہے۔غریب آدمی مرغی تودور کی بات انڈہ بھی نہیں خرید سکتا۔جینا بھی مہنگا اور مرنا بھی مہنگا۔یہ ہے عمران اور اسکے سہولتکاروں کا نیا پاکستان۔

انہوں نے کہایہ تو کرپشن کے بارے میں سب سے زیادہ شور مچاتے تھے۔اب توسب کو پتہ چل گیا کہ یہ سب سےزیادہ کرپٹ حکومت ہے۔ٹرانسپیرنسی بھی کہہ رہی ہےکہ عمران دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ نیب کےنشانے پر صرف اپوزیشن ہوتی ہے۔نیب کو پشاور میں ملک کا مہنگا ترین نیٹ ورک نظر نہیں آتا۔ ان بسوں کو دھکا دیکر چلانا پڑتا ہے، لیکن نیب کو نظر نہیں آتا۔سلائی مشین سے کیسے امریکا میں عمارتیں کھڑی ہورہی ہیں۔نیب کومالم جبہ کی کرپشن نظر نہیں آتی۔نیب کو فارن فنڈنگ کیس نظر نہیں آتا۔ نیب کو نظر نہیں آتا کہ معاون خصوصی کے پاس جائیدادیں کہاں سے آئیں۔نیب میں وہ ہمت نہیں ہے کہ پوچھ سکے کہ پاپا جانزکی ایمپائر کیسے کھڑی ہوئی؟

چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہاانکے جانےکاوقت آگیا۔یہ جنوری تک کے مہمان ہے، پھر انہیں گھر جانا پڑے گا۔ حساب لینے کا وقت آئے گا توآپ حساب لیں گے۔ان کٹھ پتلیوں سے آپ ضرور حساب لیں گے۔ان کٹھ پتلویوں کے جو پیچھے ہیں ان سے بھی حساب لیں گے۔نیب کے آئی اوز سے چیئرمین تک سے حساب لیں گے۔ان سے جب پوچھا جائے گا کہ آمدنی سے زائد اثاثے کہاں سے آئے تو لگ پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے کہاجب تک ہم سب کےلئے قانون ایک ہوگا کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔سیاستدانوں، ججز، جنرلز کےلئے ایک قانون نہیں ہوگا تب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔وقت آنے والا ہے کہ ہم احتساب لیں گے۔پھر جواب دینے کےلئے تم کہاں ہو گے۔تم تو صرف نوکر ہو، تم کو معاف کردیں گے۔

انہوں نے کہاکے پی،پنجاب، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں نوکروں کی حکومت بنائی۔جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا ہے۔انسانی حقوق تو ختم ہو چکے ہیں۔پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ حکمرانی کون کرے گا۔عوام فیصلہ کریں گےکہ معیشت اورخارجہ پالیسی کیسےچلےگی۔

گلگت بلتستان کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں پورا گلگت بلتستان کا دورہ کر کے آیا ہوں۔جی بی میں دھاندلی کی وجہ سے آپکو سیٹیں نہیں ملیں۔لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کےباوجودسب سے زیادہ ووٹ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے حاصل کیے۔دھاندلی کے بعد احتجاج شروع ہوا۔گلگت بلتستان کے عوام کا نعرہ ہے ووٹ پر ڈاکا نامنظور۔