Aaj TV News

BR100 4,831 Decreased By ▼ -6 (-0.12%)
BR30 24,463 Increased By ▲ 17 (0.07%)
KSE100 45,682 Decreased By ▼ -44 (-0.1%)
KSE30 18,994 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں کراچی سرکلرریلوے کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہماری آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے، زیر زمین پل بنانا 10ارب روپے کا کام نہیں ہے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے کراچی سرکلرریلوے سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ ابھی تک تعمیراتی کام شروع کیوں نہیں ہوا ، تین ماہ گزرگئے پلوں اورانڈرپاسزکا کام مکمل نہیں ہوسکا ۔

ڈی جی ایف ڈبلیو او نے بتایا کہ تعمیرات کیلئے ڈیزائن بنا کردیا لیکن تاحال اسکی منظوری نہیں دی گئی۔

جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ کس نے ڈیزائن کی منظوری دینی تھی جس پر ڈی جی ایف ڈبلیو اونے کہا کہ سندھ حکومت نے منظوری دینی تھی جو تاحال نہیں دی جاسکی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالتی حکم کی آڑمیں کسی کواستحصال کی اجازت نہیں دیں گے، ایف ڈبلیو او کسی نجی ادارے کیساتھ کام نہیں کر رہا جو منافع کمائے دس ارب روپے کا کام نہیں ہے ،زیرزمین پل بنانا ۔

عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ اور وزیراعلیٰ سے دوہفتوں میں جواب طلب کرلئے۔

عدالت نے سیکرٹری ریلوے کوشوکازنوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔