Aaj TV News

BR100 4,856 Decreased By ▼ -10 (-0.2%)
BR30 24,724 Decreased By ▼ -97 (-0.39%)
KSE100 45,929 Decreased By ▼ -55 (-0.12%)
KSE30 19,082 Decreased By ▼ -66 (-0.35%)

چینی سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس چین میں نہیں بنا بلکہ بھارت میں بنا اور وہیں سے دنیا بھر میں پھیلا۔

کورونا وائرس کو دنیا میں موت کا کھیل کھیلتے تقریباً ایک سال ہوچکا ہے، اب بھی کئی ممالک میں اس کی ہلاکت خیزی کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا بھر میں امریکا کے بعد بھارت دوسرا بڑا کورونا کا مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد مہلک وائرس کا شکار بن رہے ہیں۔

اب چینی اکیڈمی آف سائنسز کے سائنس دانوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہی بھارت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مئی اور جون میں شدید گرمی کے دوران بھارت میں یہ مہلک وائرس جنگلی جانوروں خصوصاً بندروں سے نکل کر انسانوں میں منتقل ہوا۔

چینی سائنس دانوں کی رپورٹ کے مطابق مئی اور جون 2019 میں شدید گرمی کے باعث پانی کی قلت کا سامنا تھا اور بھارت میں جانوروں اورانسانوں کے ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر یہ وائرس آبادی میں منتقل ہوا اور نوجوان آبادی کو کم متاثر کرتا ہوا چین کے شہر ووہان پہنچا جہاں اس کی دسمبر میں تشخیص ہوئی۔

دوسری جانب دیگر سائنس دانوں نے چینی دعوے کو یکسر طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ اس سے قبل چین امریکی فوجیوں پر بھی ووہان کے دورے کے دوران کورونا پھیلانے کا الزام عائد کرچکا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کورونا وائرس کو چینی وائرس قرار دے چکے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت بھی اس وقت مہلک وائرس کے پھیلاؤ پر چین میں تحقیقات کررہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں پہلا کورونا کیس سامنے آیا تھا، اس کے بعد یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا تھا جس سے اب تک کروڑوں افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں اور لاکھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔