Aaj TV News

BR100 4,866 Increased By ▲ 33 (0.68%)
BR30 24,821 Increased By ▲ 127 (0.52%)
KSE100 45,984 Increased By ▲ 308 (0.67%)
KSE30 19,148 Increased By ▲ 123 (0.64%)

یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے محققین کے ایک گروپ نے انٹرنیٹ پر تیز رفتار ڈیٹا کی منتقلی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

انہوں نے ایک تجربے کے دوران 178 ٹیرا بائٹس (ٹی بی) فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا جو کہ جاپان کے 150 ٹی بی پی ایس کے ریکارڈ سے 20 فیصد زیادہ ہے۔

بی بی سی برازیل کو انٹرویو دیتے ہوئے گالڈینو نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر معلومات فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے روشنی سے منتقل کی جاتی ہیں۔

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’عالمی فائبر آپٹک انفراسٹریکچر انٹرنیٹ پر 95 فیصد سے زیادہ ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔ گذشتہ 15 برسوں میں اس ٹریفک میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘

برازیل سے تعلق رکھنے والے انجینیئر لڈیا گالڈینو نے بتایا ’ہم نے اپنی تحقیق میں الگورتھم تیار کیے جنہوں نے ہمیں ہر ایک میں ان کاروں کی زیادہ سے زیادہ فرضی رفتار تک پہنچنے کی اجازت دی۔ اور ہم نے مختلف ریپیٹر ٹیکنالوجی بنائیں جن کی وجہ سے ہم سڑک پر لینز کی تعداد کو دوگنا کر سکے۔ سو اس طرح ہم 178 ٹی بی پی ایس کا ریکارڈ بنا سکے‘۔

محقیقن کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا اثر فائیو جی انٹرنیٹ پر بھی پڑسکتا ہے کیوں کہ اس کی رفتار اس کے قریب بھی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سنگاپور میں جہاں گھریلو صارفین کے لیے دنیا کا تیز ترین انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے۔ وہاں کسی صارف کو نیٹ فلیکس کے سارے مواد کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں 4 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہے۔ برازیل میں جیسے ملک میں پورا نیٹ فلیکس ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے 14 سال سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔