Aaj TV News

BR100 4,921 Increased By ▲ 38 (0.77%)
BR30 25,454 Increased By ▲ 335 (1.33%)
KSE100 46,335 Increased By ▲ 248 (0.54%)
KSE30 19,293 Increased By ▲ 127 (0.66%)

پاکستان کے نامور پرینک اسٹار نادر علی نے ایک پھٹی ہوئی بنیان سے لگژوریس گاڑی تک کا سفر کیسے طے کیا، اپنی زندگی کی تلخ حقیقت سب کو بتادی۔

تفصیلات کے مطابق آج معروف کامیڈین نادر علی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مداحوں کو دسمبر 2014 کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرد رات تھی اور میں نجی چینل کیلئے پروگرام کی شوٹنگ کرکے واپس آرہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اُن کے پرینک کا نشانہ بننے والے ایک جارح مزاج شخص نے اُن کی قمیض پھاڑ دی تھی اور چہرے پر خراشیں بھی مار دی تھیں۔

نادر نے مزید بتایا کہ شوٹنگ سے واپسی پر اُن کی بائیک کا پیٹرول ختم ہوگیا اور ڈائریکٹر بھی اُنہیں پیٹرول کے 100 روپے دینا بھول گیا تھا ایسے میں انہوں نے اپنے بھائی کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن موبائل میں کریڈٹ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اُن کی زندگی میں پہلا موقع تھا جب وہ خوفزدہ ہوئے کیونکہ اُنہیں پہلی بار خود پر شک ہوا کہ کیا یہ کام واقعی اُن کے قابل ہے یا نہیں؟

enter image description here

نادر نے مزید بتایا انہوں نے سوچا کہ وہ جن تمام لوگوں کو ہنسا رہے ہیں، کیا وہ واقعی اُن کے ساتھ ہنس رہے ہیں یا دنیا اُن کی حالت پر ہنس رہی ہے؟ اسٹار کامیڈین نے بتایا کہ یہ اُن کے پیشہ ورانہ کیریئر کا سب سے خوفناک دن تھا کیونکہ جب وہ اپنی بائیک کے ساتھ دو گھنٹے چل کر گھر پہنچے تو اُن کی ماں اُن کی یہ حالت دیکھ کر بہت رو رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس حالت میں دیکھ کر اُن کی والدہ نے اس کام کو چھوڑنے کو کہا تھا۔ تاہم آج وہ دسمبر بھی آگیا ہے کہ میں اس لگژوریس کار کے ساتھ کھڑا ہوں اور آج میں نے محنت کے بعد کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ دوستوں دیکھنے میں تو یہ صرف ایک گاڑی ہے مگر اصل میں یہ ایک فنکار کی جدوجہد کی کہانی ہے۔

واضح رہے کہ نادر علی کو پاکستان کے کامیاب ترین یوٹیوبرز میں شمار کیا جاتا ہے اور اُنہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سبسکرائبرز رکھنے والے کامیڈین کا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔