Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

سینیٹ کو بتایا گیا کہ امریکہ میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کی آمدن کم ہے تاہم اسے فروخت نہیں کیا جا رہا۔ملک میں جلد موبائل فون تیار کیئے جائیں گے جبکہ وٹس ایپ کی متبادل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی ۔ وزارت ہوابازی نے سینیٹ میں تحریری جواب میں بتایا کہ امریکہ میں موجود روز ویلٹ ہوٹل کو فروخت نہیں کیا جا رہاروزویلٹ ہوٹل 18 دسمبر 2020 سے بند ہے۔ ہوٹل کی سائیٹ لیز پر دینے کی وزارت نجکاری کی تجویززیرغورہے ۔ 2010 کے بعد سے ہوٹل کی آمدن میں کمی ہو رہی ہے۔2010 میں روز ویلٹ ہوٹل کی سالانہ آمدن 8 ہزار 333 ڈالر تھی۔2019 میں ہواٹل کی سالانہ آمدن 1495 ڈالر رہ گئی۔

آئی ٹی کے وزیر امین الحق نے بتایا کہ ملک میں بہت جلد موبائل فون کی مینوفیکچرنگ و اسمبلنگ ہوگی۔امین الحق کا کا کہنا تھا کہ اس بارےپالیسی کی ای سی سی و کابینہ سے منظوری ہوچکی ہے۔وٹس ایپ کے متبادل ایپ کی تیاری ہو رہی ہے اس پر حکومت کام کررہی ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر ثمینہ سعید کا شہر میں مکانوں و عمارتوں پر موبائل کمپنیوں کے ٹاور لگے ہیں جو کینسر کا باعث بن رہے ہیں ۔وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بتایا کہ موبائل ٹاورز کی تنصیب کا معاملہ آئی ٹی منسٹری کا کام ہے اور ان کی وزارت نے بھی ہماری وزارت نے بھی سفارش کی ہے کہ ان ٹاورز کو شہر سے باہر لگایا جائے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی غیر موثرہونے سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پر علی محد خان نے اسے واچ ڈاگ کہا تو رضا ربانی نے انہیں آڑے ہاتھوں کیا اور کہا یہ وزیر صاحب کی سلپ آف ٹنگ ہے ۔کوئی ادارہ پارلیمنٹ کا واچ ڈاگ نہیں ہو سکتا ۔ آئین کی رو سے پارلیمنٹ واچ ڈاگ ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ ملائشیا میں پی آئی اے کے جہاز کو گرفتار کر لیا گیا، یہ جان بوجھ کر کرایا گیا ہے تاکہ پی آئی اے کی نجکاری کی جاۓ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہاسلامی نظریاتی کونسل اس وقت غیر فعال ہیں۔چیئرمین کی ریٹائرمنٹ اور ممبران کی نشستیں خالی ہے۔آئین کا تقاضہ ہے کہ اس کی تشکیل ہو ۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ فروری کے آخر تک اسلامی نظریاتی کونسل کے 8 ممبران کی تقرری ہو جائے گی۔

مراد دسعید کی لمبی تقریر پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا اور کہا کہ وہ بور ہو رہے ہیں ۔ مشیر وزیراعظم بابر اعوان نے صدر کے بیس اگست کو ایوان سے خطاب پر شکریہ ادا کیا ۔سینیٹ اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔