Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ جوہری معاہدے میں شامل نہیں ہوتا تب تک اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے کو اپنے جوہری پلانٹس کا معائنہ نہیں کرنے دے گا۔

عرب نیوز کے مطابق 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کے بعد ایران کی جانب سے یہ خطرناک ترین اقدام ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے متعلق علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔

ایران نے تب سے یورینیم کی افزودگی بڑھا کر معاہدے کی خلاف ورزیوں کو بڑھایا ہے۔

موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ وہ معاہدے میں واپس شامل ہونا چاہتے ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں ایک دوسرے کی جانب سے پہل کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔

جوہری معاہدے کے اضافی پروٹوکول میں ایران اس بات پر متفق ہوا تھا کہ جوہری توانائی کا عالمی ادارہ آئی اے ای اے اس کے جوہری پلانٹس کے غیراعلانیہ دورے کر سکتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے پیر کو کہا ہے کہ ’اگر 21 فروری تک دوسروں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا تو حکومت اضافی پروٹوکول کی رضاکارانہ عمل درآمد کو معطل کر سکتی ہے۔ یہ تمام اقدامات واپس بھی ہو سکتے ہیں اگر دوسرا فریق اپنا راستہ بدلتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرتا ہے۔‘

ایرانی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکی پابندیوں نے اس کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب، ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسے جوہری ہتھیار چاہیے۔ لیکن ملک کے وزیر برائے انٹیلی جنس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ مغرب کی جانب سے مسلسل دباؤ سے تہران جواب میں لڑ سکتا ہے اور بم بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے جاری فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ایران کی جوہری سرگرمیاں ہمیشہ سے پر امن تھیں اور یہ پر امن رہیں گی۔‘

سعودی سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حمدران الشہری نے عرب نیوز کو بتایا کہ تہران حکومت کے پاس واضح طور پر کچھ چھپانے کو ہے۔ ’ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہ حال ہی میں کہا ہے کہ انہوں نے سینٹری فیوجز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور 20 فیصد تک یورنیم کی افزودگی بڑھا رہے تھے۔ اس کے بعد ہم نے سنا کہ ایران نے یورنیم کی دھات بنانا شروع کی اور یہ ایک اور خطرہ ہے۔ کچھ دن قبل ہی ایران نے کہا ہے کہ اسے شاید ایک جوہری ہتھیار بنانا پڑے۔