Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

آوارہ کتوں اور اس طرح کے دوسرے جانوروں کے حملوں سے بچنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔

پوری دنیا میں آبادی والے علاقوں میں آوارہ کتوں کو کم سے کم کرنے کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر 'TNR' کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ یہ تین الفاظ 'Trap , Nuture , Release' کا مخفف ہے۔ اس کا مقصد روکنا، آوارہ کتوں کی نس بندی کرنا اور اس کے بعد انہیں چھوڑنا ہے۔

یہ طریقہ کار کافی فعال ثابت ہوتا ہے۔ نس بندی کے بعد جاندار انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک نہیں رہتے۔ وہ طیش میں نہیں آتے اور حملہ نہیں کرتے کیونکہ نس بندی کے ذریعے ان کے جارحانہ ہارمون ختم کردیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد کم سے کم کرنا بھی ضروری ہے۔

آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے معروف طریقہ کار یہ ہے کہ جس کتے کی نس بندی کی جائے اس کے کان پر ایک نشان لگا دیا جانا چاہیے۔ اس سے یہ معلوم کرنا آسان ہوسکتا ہے کہ آیا یہ کتا خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔

اگر شہری کوئی ایسا آوارہ کتا دیکھیں جس کے کان پر کوئی نشان موجود نہیں تو اس سے خود بھی بچیں اور اس کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ اس کی نس بندی کی جا سکے۔

آوارہ کتوں کے قتل عام کے بارے میں بات کرتے ہوئے الغامدی نے کہا کہ کتوں کو نس بندی کے ذریعے خطرہ بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسے کتے جو لوگوں پر حملہ کرتے ہوں تربیت کے ذریعے ان کے رویے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔