Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

آثار قدیمہ کے سائنس دان کئی برسوں تک نہیں جان سکے کہ بحر احمر کے ساحل پر واقع مصر کا قدیم شہر 'برنیس' کیوں ختم ہو گیا۔ تقریبا دو ہزار سال قبل یہاں کی آبادی اچانک ہجرت کر گئی۔

البتہ جمعے کے روز "کیمبرج" ویب سائٹ پر نشر ہونے والے ایک مضمون میں اس شہر کے جائے وقوع کے مقام پر 1994ء میں ہونے والی کھدائی پر ایک بار پھر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کھدائی سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ شہر 275 سے 260 قبل مسیح کے درمیان وجود میں آیا تھا۔

کچھ عرصہ قبل پولینڈ اور امریکا کے سائنس دانوں نے یہاں ایک عمارت کے اندر ایک کنواں دریافت کیا جس میں ابھی تک پانی موجود تھا۔ اگرچہ اس کا پانی کچھ نمکین تھا مگر ذائقہ اچھا تھا۔ آثار قدیمہ کے سائنس دانوں نے پانی کے ذریعے کی تلاش کے لیے کھدائی شروع کی تو انہیں کافی گہرائی میں جا کر ریت کی تہیں ملیں۔ ساتھ ہی دھات کی بنی کئی کرنسیاں بھی ملیں جو آج سے 200 سال قبل بنائی گئی تھیں۔

سائنس دانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس زمانے میں علاقے میں خشک سالی کا آغاز ہو گیا تھا۔ ہوا نے ریت کو کنوئیں میں داخل کر دیا جس سے وہ سوکھ گیا۔ یہ ریت آج تک کنوئیں کے منبع میں رہ گئی۔ خشک سالی کئی برس تک جاری رہی یہاں تک کہ مقامی آبادی نے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سائنس دانوں کے مطابق اس آفت کا زیادہ ممکنہ سبب آتش فشاں لاوے کا باہر آنا ہے۔

واضح رہے کہ یونانیوں کے ہاں اس شہر کا نام "اہل غار کی بندرگاہ" تھا۔ مصر میں بطلیموسی مملکت کے دور میں اس شہر کو "سنہرا برنیس" کا نام دیا گیا۔ سال 275 قبل مسیح میں یہاں سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ تھی۔

کچھ عرصہ قبل یہاں ایک فوجی اڈہ قائم کیا گیا جس کا افتتاح مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کیا۔ یہ شمالی علاقے میں "محمد نجیب اڈے" کے بعد مصر میں دوسرا بڑا فوجی اڈہ اور بحر احمر میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔

امریکا نے اس علاقے کی تزویراتی اہمیت کا اندازہ لگا لیا لہذا اس نے سابق صدر انور سادات کے دور میں مصر کے ساتھ مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کا مقصد یہاں ایک امریکی فوجی اڈہ بنانا تھا۔ یہاں فوجی اڈہ قائم کرنے کی لاگت ترکی میں قائم کیے جانے والے اڈے کے مقابلے میں آدھی اور دیگر اڈوں کے مقابلے میں ایک تہائی تھی۔

ایک مطالعاتی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مصر میں "برنیس" کے اڈے سے مشرق وسطی میں عسکری "آپریشنز تھیٹر" تک پہنچنے کے لیے صرف 10 روز درکار ہوں گے۔ دوسری جانب امریکا سے یہ عرصہ 77 روز، کینیا سے 22 روز اور ترکی سے 17 روز ہے۔

انور سادات نے برنیس میں امریکی فوجی اڈے کے قیام کو مسترد کر دیا۔ سادات کے بعد امریکی صدر رونالڈ ریگن نے براہ راست مصری صدر حسنی مبارک سے بات کی تھی کہ اس اڈے کو صرف اس وقت استعمال کی اجازت دے دی جائے جب مصر اور امریکا کو مشترکہ خطرے کا سامنا ہو۔ تاہم مبارک نے ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوجی اڈے کو شدت سے مسترد کر دیا۔