Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,175 Increased By ▲ 231 (0.51%)
KSE30 18,470 Increased By ▲ 87 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 854,240 4109
DEATHS 18,797 120
Sindh 290,756 Cases
Punjab 316,334 Cases
Balochistan 23,186 Cases
Islamabad 77,684 Cases
KP 123,150 Cases

جرمن حکام نے چائلڈ پورنوگرافی کے سب سے بڑے پلیٹ فارم کو بے نقاب کرتے ہوئے اسے بند کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت پولیس کی طویل تفتیش کا نتیجہ ہے۔ کئی افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

جرمن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں بچوں کی فحش فلموں کے اس نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا، جو دنیا بھر میں اس غیر قانونی کاروبار کا سب سے بڑا پلیٹ فارم تھا۔ ڈارک نیٹ کے اس پلیٹ فارم کا نام 'بوائز ٹاؤن‘ تھا۔ اس کارروائی کے دوران چند مشتبہ ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

بچوں کی فحش فلموں کا گھناؤنا کاروبار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا پلٹ فارم 'بوائز ٹاؤن‘ سن 2019 سے فعال تھا۔ اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد تھی۔ اس آن لائن پلیٹ فارم تک رسائی کا واحد ذریعہ ڈارک نیٹ تھا۔ پولیس کی تفتیش کا دائرہ جرمنی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔

اس پولیس کارروائی کے نتیجے میں جن چار جرمن شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کی عمریں چالیس سے چونسٹھ برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کو لاطینی امریکی ملک پیراگوئے میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والا ایک شخص اس پلیٹ فارم کا خاصا سرگرم رکن تھا۔ اس نے ساڑھے تین ہزار سے زائد پوسٹس شیئر کی تھیں۔

اس پورنو پلیٹ فارم کی تلاش ایک جرمن ٹاسک فورس کی طرف سے کئی مہینوں کی تفتیش کا نتیجہ تھی۔ ٹاسک فورس کے ساتھ یورپی پولیس ادارے یوروپول نے بھی تعاون کیا۔ تفتیشی عمل میں دیگر ممالک مثلاﹰ ہالینڈ، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا شامل تھے۔ اس پلیٹ فارم کی دریافت اور چار افراد کی گرفتاری کا بیان وفاقی جرمنی کی تفتیشی پولیس فورس (بی کے اے) کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اس بیان میں بتایا گیا کہ 'بوائز ٹاؤن‘ چائلڈ پورنو گرافی کے کاروبار میں ملوث افراد کو کم سن بچوں کے ساتھ کی جانے والی جنسی زیادتیوں کی ریکارڈنگ دوسرے ممبران کے ساتھ شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے رجسٹرڈ یُوزر کو 'بوائز ٹاؤن‘ کے ایڈمنسٹریٹرز استعمال کرنے کے نہایت محفوظ طریقوں سے بھی مطلع کرتے تھے تا کہ وہ فوجداری الزامات سے بچ سکیں۔

تفتیش کے بعد پولیس نے گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارنے کا آغاز کیا۔ تین افراد کو گرفتار کر کے فرینکفرٹ پہنچا دیا گیا، جہاں ان سے وسطِ اپریل میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ایک گرفتاری لاطینی امریکی ملک پیراگوئے میں کی گئی ہے اور اس شخص کو جلد ہی جرمن پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

جرمن پولیس نے چالیس برس کے ایک مشتبہ شخص کو مغربی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے شہر پاڈربورن سے گرفتار کیا اور کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی 'بوائز ٹاؤن‘ کا ایک ایڈمنسٹریٹر ہے۔ ایک اور مبینہ ایڈمنسٹریٹر کو جنوبی جرمن شہر میونخ کے نواح سے حراست میں لیا گیا۔ اس کی عمر انچاس برس ہے۔ اب تک پولیس چائلڈ پورنوگرافی کے اس نیٹ ورک کے کئی چیٹنگ فارمز کو بند کر چکی ہے۔