Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,175 Increased By ▲ 231 (0.51%)
KSE30 18,470 Increased By ▲ 87 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 854,240 4109
DEATHS 18,797 120
Sindh 290,756 Cases
Punjab 316,334 Cases
Balochistan 23,186 Cases
Islamabad 77,684 Cases
KP 123,150 Cases

چند برس پہلے تک انٹرنیٹ کی دنیا پر چھائی ہوئی بڑی کمپنیوں یاہو اور امریکا آن لائن (اے او ایل) کو دوبارہ بیچا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ ان ماند پڑ چکے انٹرنیٹ ستاروں کی قیمت پانچ بلین ڈالر لگائی گئی ہے۔

یاہو اور امریکا آن لائن اس وقت امریکی ٹیلیکام کمپنی ویرائزن کی ملکیت ہیں، جس نے انہیں یہ سوچ کر خریدا تھا کہ ان کی مدد سے ویرائزن میڈیا اور آن لائن کے شعبوں میں اپنی کاروباری خواہشات کو عملی صورت دے سکے گی۔ لیکن جیسا سوچا گیا تھا، ویسا نا ہو سکا۔ اب ویرائزن نے ان دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پانچ بلین ڈالر کے عوض ایک نجی سرمایہ کار کمپنی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویرائزن کی طرف سے پیر کے روز جاری کردہ ایک اعلان میں کہا گیا کہ یہ کمپنی ان دونوں اداروں کو اپالو گلوبل مینیجمنٹ کو فروخت کر دے گی۔ اس سلسلے میں ویرائزن اور اپالو گلوبل کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اپالو ویرائزن سے صرف یاہو اور اے او ایل ہی نہیں خریدے گی، بلکہ پانچ بلین ڈالر کے عوض وہ ویرائزن کا پورے کا پورے میڈیا یونٹ ہی خرید لے گی، جس میں یاہو اور اے او ایل کے علاوہ ان دونوں اداروں کے ایڈورٹائزمنٹ ٹیکنالوجی کے آپریشنز بھی شامل ہیں۔

ساتھ ہی ویرائزن نے تین مئی کو جاری کردہ اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ بھی ویرائزن میڈیا کے دس فیصد حصص اپنے ہی پاس رکھے گی اور مستقبل میں بھی ویرائزن میڈیا کی قیادت اس کے موجودہ سربراہ گورو گوراپن ہی کرتے رہیں گے۔

ویرائزن نے یاہو کو 2017ء میں 4.5 بلین ڈالر کے عوض خریدا تھا۔ بعد میں اس امریکی کمپنی نے یاہو کو اپنے ایک اور میڈیا یونٹ امریکا آن لائن کے ساتھ ضم کر دیا تھا، جسے وہ 2015ء میں پہلے ہی خرید چکی تھی۔

یہ دونوں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں انٹرنیٹ کے دور کے ابتدائی سالوں میں انتہائی کامیاب رہی تھیں۔ بعد میں ان کے کاروبار کا بہت بڑا حصہ گوگل اور فیس بک جیسے اداروں کے پاس چلا گیا تھا، جو اب ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ بزنس کے 'ڈائنوسار‘ کہلاتی ہیں۔

اسی لیے یاہو اور اے او ایل کو ان ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو کبھی انٹرنیٹ کی دنیا کے روشن ترین ستارے تھے، مگر اب اپنی چکا چوند کھو چکے ہیں۔