Aaj.tv Logo

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کی جس کے بعد اپوزیشن ان کی غیر موجودگی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم کی عدم شرکت کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے ٹویٹر پر جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت کے حوالے سے چلنے والی خبریں غلط ہیں۔

پیغام میں کہا گیا کہ وزیراعظم پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہمیشہ سے آمادہ تھے لیکن ان کے اجلاس میں عدم شرکت کی واحد وجہ کچھ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے تحفظات تھے جو کہ اسمبلی سیکریٹریٹ کو پہنچائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں پارلیمانی رہنماؤں کو مسئلہ کشمیر، افغانستان کی صورتحال، ملک کو درپیش اندرونی چیلنجز سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی تھی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، رہنماﺅں اور اراکین کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی، اندرونی چیلنجز، خطے میں وقوع پذیر تبدیلیوں خصوصاً تنازع کشمیر اور افغانستان کی صورت حال پر جامع بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہیں اور عسکری قیادت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے سربراہان بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

شرکا کو بتایا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں اخلاص کے ساتھ نہایت مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان کی بھرپور کاوشوں کی بدولت نہ صرف مختلف افغان دھڑوں اور متحارب گروپوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی بلکہ امریکا اور طالبان کے درمیان بھی بامعنی گفت و شنید کا آغاز ہوا۔ ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام دراصل جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے گا۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا اور افغان امن کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی سر زمین افغانستان میں جاری تنازع میں استعمال نہیں ہو رہی اور اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی جبکہ افغانستان کی سرحد پر باڑ کا کام 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ کسٹمز اور بارڈر کنٹرول کا بھی موثر نظام تشکیل کیا جا رہا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے طویل اجلاس کے بعد شریک اراکین قومی، اسمبلی، سینیٹرز، عسکری قیادت اور دیگر کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔