Aaj News

اتوار, مئ 19, 2024  
10 Dhul-Qadah 1445  

"غیر اخلاقی" حرکات کے مقدمے میں نامزد ملزم گرفتار، عبوری ضمانت دِکھانے پر چھوڑ دیا گیا

اسلام آباد پولیس نے قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی...
اپ ڈیٹ 24 اگست 2021 07:42pm

اسلام آباد میں قائد اعظم کےپورٹریٹ کےسامنے "غیراخلاقی" تصاویر میں موجود لڑکے کو گرفتارکرلیا گیا۔ملزم نےعبوری ضمانت کا عدالتی حکم نامہ دکھادیا جس پر پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔

معروف صحافی وسیم عباسی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ اسلام آباد پولیس کےذرائع کے مطابق قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے فوٹو شوٹ میں نظر آنےوالےلڑکے کا نام ذوالفقار ہے اور وہ لاہور کا رہائشی ہے۔

پولیس ٹیم نے ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا اور اب اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے۔

یاد رہے نامزد ملزم پر اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی حرکات کا مقدمہ رواں ماہ کے اوائل میں درج کیا گیا تھا۔

تھانہ کورال پولیس نے شہری راشد ملک کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں تاریخی مقامات اور اشخاص کی تصاویر کے تقدس اور احترام ہر شہری پر فرض ہے۔ پولیس کے علم میں یہ معاملہ لانا چاہتا ہوں کہ کورال چوک پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ لڑکے اور لڑکی کا ناچ اور تصاویر بنانا ہمارے عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ایک لڑکے اور لڑکی نے قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ تصاویر بنا کر وائرل کی ہیں۔ان کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے اور اگر یہ اصل ہیں تو اس پر کارروائی کی جائے۔‘

پولیس نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 294 کے تحت درج کر رکھا ہے۔

اس دفعہ کےتحت عوامی مقامات پر غیراخلاقی حرکات،نازیبا کلمات یا فحش گانے پر کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے پرزیادہ سے زیادہ تین ماہ قید یا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے تحت عدالت دونوں سزائیں بھی دے سکتی ہے۔

ٹوئٹر پر معروف صحافی انصار عباسی نے بھی ڈی سی اسلام آباد کو تصاویر کھنچوانے والے افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا.

سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے بعد اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے کہا تھا کہ تصاویر بنانے والے افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔

Quaid e Azam

Arrested