Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,604 Decreased By ▼ -217 (-0.48%)
KSE30 17,441 Decreased By ▼ -81 (-0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

کہا جاتا ہے عورت کے آنسو نہ گرے تو ریٹنگ نہیں آئے گی،ارمینا خان

29 اگست 2021
ارمینا خان ڈرامہ سیریل "محبتیں چاہتیں" میں وہ ولن کے روپ میں نظر آئیں اور جو کردار انہوں نے اپنے چہرے کے تاثرات اور ڈائیلاگز کی ادائیگی سے پیدا کیا وہ لگتا ہے کہ جیسے ان کے لیے ہی بنا تھا۔
ارمینا خان ڈرامہ سیریل "محبتیں چاہتیں" میں وہ ولن کے روپ میں نظر آئیں اور جو کردار انہوں نے اپنے چہرے کے تاثرات اور ڈائیلاگز کی ادائیگی سے پیدا کیا وہ لگتا ہے کہ جیسے ان کے لیے ہی بنا تھا۔

بن روئے، جانان اور شیر دل جیسی مقبول فلموں میں کام کرنے والی پاکستانی اداکارہ ارمینا خان کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے عورت کے آنسو نہ گرے تو ریٹنگ نہیں آئے گی۔

ارمینا خان ڈرامہ سیریل "محبتیں چاہتیں" میں وہ ولن کے روپ میں نظر آئیں اور جو کردار انہوں نے اپنے چہرے کے تاثرات اور ڈائیلاگز کی ادائیگی سے پیدا کیا وہ لگتا ہے کہ جیسے ان کے لیے ہی بنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’جس سیٹ پر جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ جب تک عورت کے آنسو نہیں گریں گے تو ریٹنگ نہیں آئے گی، یہ بہت پرانا تصور ہو گیا ہے اب بس کر دینا چاہیے۔ اب تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ بس کر دیں لیکن میڈیا ہاؤسز سن نہیں رہے انہیں لگتا ہے اسی قسم کا ڈرامہ ہٹ ہو گا۔‘

اردو نیوز سے گفتگو میں ہر ڈرامے میں ملتے جلتے خواتین کے کرداروں کے حوالے سے ارمینا خان نے کہا کہ 'آج ٹی وی پر عورت کا جو امیج دکھایا جا رہا ہے وہ روتی، بیچاری یا ولن کا ہے۔ ٹی وی تو لوگوں کی تربیت کرنے کا ذریعہ ہے لیکن ہم اس کا صحیح استعمال نہیں کررہے۔ ہمیں مضبوط فیمیل کریکٹرز دکھانے چاہئیں کیونکہ آج خواتین زندگی کے ہر شعبے میں کام کررہی ہیں۔ کیرئیر اوریئنٹڈ خواتین کو بھی دکھایا جانا چاہیے اس سے (معاشرے میں) مثبت تبدیلی آئے گی۔ اگر مثبت چیزیں دکھائی جائیں گی تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور یہ جو "روندو کریکٹرز" ہیں یہ بھی کم ہی کیے جائیں گے۔‘

ارمینا رانا خان کا کہنا تھا کہ 'میں نے ولن کا کردار اس لیے کیا کیونکہ مجھے لگا اس میں اداکاری کی گنجائش زیادہ ہے۔ مجھے یہ بھی لگا کہ اس کردار کے ذریعے مینٹل ہیلتھ کے مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔'

ارمینا نے کہا کہ ’ یہ محض ایک ولن کا کردار نہیں تھا بلکہ یہ ایک موقع آیا تھا کہ لوگوں کو بتا سکوں کہ مینٹل ہیلتھ بہت بڑی چیز ہے اور ضروری نہیں ہے کہ کوئی برا ہے تو یقینا وہ نیگیٹیو بھی ہے۔ یہ کردار میرے لیے چیلنج بھی تھا اور مجھے اپنی حد بھی دیکھنی تھی کہ بطور اداکارہ کہاں تک ہے۔'

ارمینا کہتی ہیں کہ ’جب لوگوں کے پاس کچھ متبادل نہیں ہو گا تو وہ یہی کچھ ہی دیکھیں گے جو چل رہا ہے۔ چند کہانیوں کو بار بار دکھایا جا رہا ہے ایک ہی طرح کی دو سو کہانیاں تو ہم نے دیکھ لی ہیں اب یہ سب پرانا ہو گیا ہے اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اکثر ارمینا خان پر تنقید بھی کی جاتی ہے، جس پر ان کا کہنا ہے کہ ’جب آپ کسی بڑی کاسٹ کے ساتھ اپنا ڈیبیو کررہے ہوتے ہیں اور کردار بھی صحیح طرح سے ادا کررہے ہوں توآپ کی مخالفت کی جاتی ہے کیونکہ لوگ اپنی جگہ چھوڑنا نہیں چاہتے ،میرے خلاف بہت سارے آرٹیکلز لکھے گئے لیکن جب میں بعد میں پڑھتی ہوں توسمجھ میں آتی ہے کہ یہ کس پی آر کا کام ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ایسے اکاوئٹس سے مجھ پہ تنقید کررہے ہوتے ہیں جن کے فالوورز بھی زیرو ہوتے ہیں اور پوسٹیں بھی زیرو تو ایسے اکاؤنٹس انہی کاموں کے لیے بنائے جاتے ہیں، میرے ساتھ شروع سے ہی ایسا ہو رہا ہے لہذا میں اس چیز کو ترجیح نہیں دیتی۔‘

ارمینا کہتی ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں صرف سات یا آٹھ ڈرامے کیے ہیں ‘اگر کسی کو میرے چہرے کے تاثرات کمزور لگتے ہیں تو میں اپنے کرافٹ پر کام کرتی رہوں گی اور جو اچھا کام ملے گا کرتی رہوں گی اور نفرت کرنے والوں کو بالکل بھی اہمیت نہیں دوں گی۔‘