Aaj.tv Logo

آئی ایس آئی چیف کا کابل میں دلچسپ جواب، عوام کے بھی دلچسپ تبصرے

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2021
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دورہ کابل دنیا بھر خصوصاً بھارت کی نظروں میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دورہ کابل دنیا بھر خصوصاً بھارت کی نظروں میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے

پاکستانی انٹیلی جنس سروس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دورہ کابل دنیا بھر خصوصاً بھارت کی نظروں میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر بھی اسی دورے کا تذکرہ ہے۔

جہاں ایک طرف "کابلی قہوے" کا سوشل میڈیا پر چرچا ہے، وہیں خطے کی بدلتی صورتحال میں سب کی نظریں ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ کابل پر لگی ہیں۔

اس موقعے پر سوشل میڈیا پر ایک کلپ خوب وائرل ہورہا ہے، جس میں دورہ کابل پر صحافی نے ڈی جی آئی ایس آئی سے سوال پوچھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا؟

جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے مسکراتے ہوئے کہا فکر نہ کریں سب کچھ اچھا ہوگا۔

دوسری طرف پاکستانی سفیر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کام کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی کی ویڈیو اور کابل میں قہوے سے لطف اندوز ہونے کے مناظر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا ایک طوفان سا آگیا ہے۔

ملک زبیر نے بھارت کو پیغام دیا، 'پیارے ہندوستانیوں ہم نے برنول کے ہزاروں ٹرکوں کا آرڈر دیا ہے۔چند دنوں میں پہنچ جائے گا۔ صبر کرو.'

حامد مجید کہتے ہیں، 'مجھے لگتا ہے کہ ہم نے پہلی بار ان کی آواز سنی ہے'۔

وسیم جان نے لکھا، ' چائے کا کپ تھام کر بھارت کو پیغام پہنچاتے ہوئے۔'

حذیف روہیل کہتے ہیں، 'باڈی لیگزیج خود بولتی ہے، دھیان سے سنیے۔'

اظہر علی خان نے لکھا، ' لگتا ہے افغانستان میں ڈی ایچ اے بنانے کا ارادہ ہے۔'

واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے کابل میں پاکستان کے سفیرسے ملاقات کی ہے، جس میں سرحدوں کی صورتحال اور افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں کی پاکستان کے راستے انخلا کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے طالبان کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گرد تنظیمیں اور امن کو تباہ کرنے کے خواہشمندعناصر موجودہ صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔

طالبان کے نمائندوں سے ملاقات میں مختلف ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے پاکستان کے راستے انخلا کی درخواستوں اور اس سلسلے میں کوئی طریقہ کار بنانے پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں روزانہ کی بنیاد پر افغان باشندوں کی آمدورفت پر بھی بات چیت کی گئی ۔