Aaj TV News

BR100 5,058 Increased By ▲ 32 (0.63%)
BR30 25,042 Increased By ▲ 269 (1.09%)
KSE100 47,148 Increased By ▲ 228 (0.49%)
KSE30 18,717 Increased By ▲ 59 (0.32%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی سطح کی پہلی باضابطہ مشاورت ہوئی ہے ۔

کابل میں تعینات پاکستانی سفیر منصور احمد خان کی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

منصور خان نے کہاکہ امیرخان متقی کے ساتھ معاشی تعلقات، انسانی ضروریات کی فراہمی اور عوامی روابط پر تبادلہ خیال کیا-

دوسری جانب امریکا نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان صورتحال پر ہماری مرضی کا کردار ادا کیا جائے، پاکستان کے کچھ مفادات ہمارے کیخلاف ہیں، پاکستان کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کاپریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیئے کہ وہ خود کو عالمی برادری کیساتھ کھڑا کرے ، پاکستان کو وہ کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتے ہیں جو امریکا چاہتا ہے،افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں کسی بھی خطرے پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں، افغانستان سے شہریوں کے انخلاء کی کوششیں جاری رکھیں گے،افغانستان میں سفارتی مشن شروع کر دیا گیا ہے ،رواں سال 330 ملین ڈالر امداد افغانستان کو دیں گے۔

انٹونی بلنکن کا مزیدکہنا تھا کہ طالبان سے معاہدہ ہمیں پچھلی انتظامیہ سے ملا،معاہدے کی پاسداری نہ کرتے تو امریکی افواج پر حملوں کا خدشہ تھا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وقت آ گیا تھا کہ امریکا کی طویل جنگ کا خاتمہ کیا جاتا کیونکہ ہم نے افغانستان میں اپنے اہداف کو حاصل کر لیا تھا۔