Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پر دباو ہے اور نہ ہی افغانستان کے معاملے پر کوئی ہم پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ہندوستان میں تابکاری مواد کی غیرقانونی سرگرمیوں سے خرید و فروخت سے جوہری پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھی مسلسل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مواصلاتی انٹرنیٹ بندشوں، میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 12 ستمبر کو ڈوزیئر کا اجراء کر کے بھارتی مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا،ڈوزیئر کے اجراء کا مقصد عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کی بھارتی خلاف ورزیوں واضح کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ڈوزیئر میں کیمیائی استعمال کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام کے خلاف کیمیائی مواد کا استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں-ہندوستان میں یورینیم سمیت تابکاری مواد کے پکڑے جانے پر شدید تشویش ہے، ہندوستان میں تابکاری مواد کی غیرقانونی سرگرمیوں سے خرید و فروخت سے جوہری پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان بلاکس کی سیاست پر یقینی نہیں رکھتا، پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں پاکستان کے یورپین یونین اور دیگر کے ساتھ تعلقات بھی کلیدی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان کو انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کی جا رہی ہے،پاکستان نے جنیوا میں انسانی امدادی کانفرنس کا خیرمقدم کیا، ، غذائی قلت سے ہر ممکن انداز میں بچانا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے فیصلے خود اور آزاد انداز میں کرتا ہے، کسی کا دباؤ قابل قبول نہیں۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن اور دیگر حکام کے بیانات پرپوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ انکے حالیہ بیان پاک، امریکا تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتےپاکستان نے افغان امن عمل، طالبان امریکا معاہدے، شہریوں کے انخلاء میں مدد کی۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا حالیہ بیان مایوس کن اور حیران کن ہے ۔ پاکستان نے انتہائی پیچیدہ صورتحال میں کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ پاکستان نے القاعدہ کے خاتمے، افغانستان کے پرامن حل پر حقیقی کردار ادا کیا پاکستان، افغانستان میں تمام فریقین پر مشتمل جامع حکومت کے قیام کے لیے آج بھی کوشاں ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ افعانستان کو آئندہ ہمسایہ ممالک کے اجلاس میں شامل کرنے پر مشاورت جاری ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ ہندوستان میں جوہری مواد کا غیرقانونی کاروبار پاکستان ہی نہیں، خطے کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں غیرقانونی جوہری کاروبار سے اس کی جوہری صلاحیت کی سیکیورٹی پرکئی سوالات اٹھتے ہیں ۔ افعانستان کے ساتھ ماضی کی حکومت کے ساتھ موجود معاہدات ہی آگے چلیں گے ۔