Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

پاکستان کی معروف اور قابل ترین اداکاراؤں میں شامل یاسرہ رضوی کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جس کا مقصد بظاہر معاشرے میں زبردستی کی شادیوں کی روک تھام اور طلاق سے متعلق غلط گمانیوں جیسے مسائل کو اجاگر کرنا نظر آتا ہے۔

انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ان تصاویر میں یاسرہ رضوی دلہن کا لال لباس پہنی ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھوں اور گلے میں زنجیریں بندھی نظرآرہی ہیں۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، 'شادی کرنا یا نہ کرنا کسی بھی انسان کی زندگی کا ایک اہم اور ذاتی فیصلہ ہے۔ کسی سے، کیسے اور کیوں؟ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔'

'اگر یہ فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی ہوجائے اور اپنی مرضی سے کی گئی شادی ایک ناخوشگوار تجربہ بن جائے تو اسے ختم کردینا بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔'

یاسرہ رضوی کا اپنی پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ زبردستی کی شادیاں یا طلاق کے بعد ملنے والے طعنے کسی طور بھی روایات کا حصہ نہیں ہوسکتی بلکہ یہ انسانی حقوق پر حملہ ہے۔

انہوں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لوگوں سے درخواست کی کہ اپنی بیٹیوں، بہنوں، دوستوں، خواتین رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے اور ان خواتین کے لیے جو اپنی شوہروں کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں ریسٹورینٹس میں ان کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

یاسرہ کا کہنا تھا کہ 'یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے' کہنے والوں کو روکیں اس سے قبل کے آپ کو کسی اپنے کو قبرستان لے جانا پڑے۔

یاسرہ رضوی متعدد پاکستانی ڈراموں میں کام کرچکی ہیں جن میں من کا موتی، ڈنک، دل نہ امید تو نہیں اور ویب سیریز چڑیل شامل ہیں۔