Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

معروف پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر ارمینا رانا خان نے ٹویٹ کیا ہے کہ اداکاری کے کیرئیر میں آگے بڑھنے کے لیے مذہبی انتہاپسندی کو استعمال کرنا آج کل عام ہوگیا ہے۔

ارمینا نے کہا کہ شاید اس کے بغیر اب کوئی گزارا نہیں ہے۔

ان کی اس ٹویٹ کے بعد سے سوشل میڈیا پر انہیں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو ارمینا خان کی ٹویٹ سے حمزہ علی عباسی اور فیروز خان ذہن میں آتے ہیں۔

فیروز خان نے شوبز چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن بعد ازاں "خدا اور محبت" نامی ڈرامے میں اداکاری کی۔

اسی طرح حمزہ علی عباسی بھی مذہبی اقوال شیئر کرتے ہیں اور فلم انڈسٹری میں بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ہمارے کئی اداکار اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات ٹی وی اسکرین پر فلمی گانوں پر رقص کرتے نظر آتے ہیں لیکن دوسری ہی طرف موقع یا بے موقع مذہبی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی فیشن انڈسٹری ایک خاص فلسفے پر کھڑی ہے اور یہ فلسفہ شخصی آزادی، صارفیت (Consumersim)، ذات کی تشہیر، خود نمائی اور ایک خاص قسم کے "باڈی امیج" کی ترویج کرتا ہے۔ یہ فرد کی خود نمائی کا ایک پورا پیکج ہے جو مذہب سے متصادم ہے۔

تاہم ارمینا نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے لکھا،'مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے ٹویٹس کو مخصوص فنکاروں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ براہ کرم ذہن میں رکھیں کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میں ذاتی حملوں میں ملوث ہوں، یہ میرا انداز نہیں ہے۔ '

ارمینا نے مزید لکھا کہ آپ کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں، اگر آپ انتہاپسند ہیں تو آپ مذہب کی تشریح بھی انتہا پسندانہ کریں گے۔