Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

چیئرمین نیب کا مستقبل کیا؟وزارت قانون تذبذب کا شکارہے اورسات روزگزرجانے کے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہ ہو سکا۔چیئرمین نیب کی قانونی حثیت پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہے۔

صدارتی آرڈیننس کو آئے سات روزہوگئے لیکن تاحال چیئرمین نیب کا نیا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق وزارت قانون چیئرمین نیب کی اگلی ٹرم کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے پرابہام کا شکار ہے۔ تاحال یہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکا کہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے یا نہیں، گزشتہ نوٹیفکیشن کی مدت 8 اکتوبر 2021 تک ختم ہوچکی ہے۔ 2017ء کے نوٹیفکیشن میں ناقابل توسیع کے الفاظ درج ہیں جبکہ نئے آرڈیننس میں ناقابل توسیع کے الفاظ کو حذف کر دیا گیا ہے۔

وزارت قانون کے ذرائع کا کہنا ہے نئے صدارتی آرڈیننس کے تحت نیا نوٹیفکیشن جاری کرنا لازمی ہے جو کہ قانونی لحاظ سے وزارت قانون کو جاری کرنا ہوگا،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال بغیر نوٹیفکیشن کے ایک ہفتے سے سرکاری امور نمٹا رہے ہیں۔

نیب آرڈیننس لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

دوسری جانب نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا-

اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 اعلی عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف ہے،پارلیمنٹ کی موجودگی آرڈیننس جاری نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں کہا گیاہے کہ قانون کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع نہیں ہو سکتی، نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کا ہے، کسی ایک فرد کیلئے آرڈنینس جاری نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پٹیشن کے حتمی فیصلے تک نیب ترمیمی آرڈیننس پر عمل درآمد روکا جائے اور عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کو کلعدم قرار دیا جائے۔