Aaj.tv Logo

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یکم اکتوبر2021کو اپنے انٹرویو میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا، ان مذاکرات کی شروعات ہو چکی ہے.

انہوں نے کہا ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پرآمادہ ہوچکے ہیں.جو مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے.کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین اور قانون سے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی.

ان کاکہنا تھا ان مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا.مذاکرات میں ان علاقوں کے متاثرہ افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے.

فواد چوہدری نے مزید کہا مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی.مذاکرات میں افغانستان کی اتھارٹیز (عبوری حکومت) نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے.یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے ایک طویل عرصے کے بعد مکمل امن کی طرف بڑھ رہے ہیں.