Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

تحریر: فرزانہ علی (بیوروچیف پشاور)

ٹی ٹی پی کےساتھ مذاکرات سےمتعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کاایک اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی بھی چونکہ پاکستانی قوم سےہی بنی ایک اسلامی جہادی تحریک ہے،اس لئےوہ ہمیشہ دیگر اہم مسائل کےساتھ ساتھ قومی مفاد کو بھی مدنظر رکھتی ہے.یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات جنگ کا حصہ ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا انکار نہیں کرسکتی.لہذا تحریک طالبان پاکستان ایسے مذاکرات کےلئے تیار ہے جس سے ملک بھرمیں دیرپا امن قائم ہوسکے اور ہمارے پاکستانیوں کو ایک طرف امن کی بہاریں میسر ہوں اور دوسری طرف پاکستان کے حصول کا مقصد بھی حاصل ہوسکے۔

مذاکرات کے متعلق ان چار اہم نکات کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔

(1) فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں آئندہ لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

(2) فریقین کی طرف سے ایک ماہ یعنی 9 نومبر سے 9 دسمبر تک فائر بندی ہوگی.جس میں فریقین کی رضامندی سے مزید توسیع بھی کی جائے گی۔

(3) فریقین پر فائربندی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

(4) امارت اسلامیہ افغانستان موجودہ مذاکراتی عمل میں تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے مابین ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔

یہی وہ نکات ہیں جن پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نپے تلے انداز میں بات کی۔ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ آئین و قانون کے مطابق ہوں گے۔کیونکہ کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین اور قانون کے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ’طالبان سے مذاکرات کی تین شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، ہتھیار پھینکنا اور پاکستان کے شناختی کارڈ بنوانا یعنی اپنی شناخت ظاہر کرنا شامل ہیں'۔

تاہم پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات اور طے پانے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسبملی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’سب کچھ خفیہ رکھا گیا ہے۔ حکومت کو معاہدے کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کرنی چاہیں کہ کس کے ساتھ کیا طے پایا ہے۔‘

جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے کالعدم ٹی ٹی پی سے مذکرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر ٹی ٹی پی کے ساتھ یکطرفہ معاہدہ نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا تھا ’پارلیمان کی منظوری کے بغیر بنائی گئی کسی پالیسی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

بلاول بھٹونے کہا کہ وہ حکومت پر تنقید کرتے رہیں گے کیونکہ اس معاملے میں حکومت نے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ وہ کون ہوتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے بھیک مانگیں اور یکطرفہ طور پر اُن سے مذاکرات کریں جنہوں نے ہمارے فوجیوں، قومی قائد اور اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا۔پارلیمان کی جانب سے منظور شدہ پالیسی بہتر پالیسی ہوگی جس کی قانونی حیثیت بھی ہوگی۔

ٹی ٹی پی سےمذاکرات سے متعلق جب ہم نے معروف تجزیہ کار عامر رانا سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کا مذاکرات کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے معاہدے ہو جاتے ہیں لیکن جب چل نہیں پاتے تو ناکامی یا خلاف ورزی کا سارا الزام ریاست یا ریاستی ادادروں پر دھر دیا جاتا ہے اگرچہ فی الحال تحریک طالبان پر افغان طالبان کا دباو ہے کیونکہ وہ اس میں مصالحت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن جسیے ہی دباو کم ہو گا تو مسائل ابھر سکتے ہیں۔

عامر رانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ولی محسود گروپ ان مذکرات کے حق میں نہیں ہے تاہم ان گروپوں کو بھی ملانے کی کوششیں جاری ہیں۔

عامر رانا نے بتایا کہ ان مذاکرات کا اہم نکتہ مطالبات ہونگے ۔کیونکہ وہ ظاہر کریں گے کہ معامالات ممکن ہیں یا نہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے شکئی معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ معاہدہ کس طرز کا ہوگا۔کیا بات پھر قبائلی اضلاع کے ہولڈ اور وہاں دفاتر کھولنے کی طر ف جائے گی یا اس سے ہٹ کے کچھ ہوگا۔

سوال اہم تھا اس لئے ہم نے یہ سوال رکھا ان علاقوں میں بحیثیت پولیٹیکل ایجنٹ اور بیورو کریٹ کام کرنے والی اہم شخصیت رستم شاہ مہمند کے سامنے تو انہوں نے کہا کہ اگرچہ بات چیت کا مقصد امن امان کا قیام ہے لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں بلکہ ایک اسٹاپ گیپ ہے۔

جب ہم نے پوچھا کہ معاہدے میں کیا ہوسکتا ہے تو رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی رہائی، ٹی ٹی پی کے لاپتہ افراد کا حساب کتاب ،جنکے گھر بار تباہ ہو ئے اُنکی بحالی اور ایک پولیٹکل یا سوشل گروپ کے طور پر انکی حیثت کو ماننا شامل ہوگا۔

کیا پولیٹکل یا سوشل گروپ کی حیثت کا مطلب ایک بار پھر انکو ایک قوت تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟

اس پر رستم شاہ نے کہا کہ اصولی طور پر اس طرح کرنا غلط ہے لیکن حکومتیں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے مستقل حل کی طرف جاتی نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس کھبی پیسے دے کر تو کبھی کچھ سمجھوتے کر کے وقتی طور پر انھیں خاموش کرا دیا جاتا ہے.یہی ٹی ایل پی کے ساتھ ہوا اور اب ٹی ٹی پی کی طرف چل پڑے ہیں۔یوں سمجھیں کہ یہ سیاسی صف بندیاں ہوتی ہیں تاکہ کام چلتا رہے۔