Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,825 372
DEATHS 28,767 6
Sindh 476,674 Cases
Punjab 443,453 Cases
Balochistan 33,506 Cases
Islamabad 107,887 Cases
KP 180,316 Cases

حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر اپوزیشن کو پھر مشاورت کی دعوت دیدی۔

وزیر قانون کہتے ہیں واضع ہو جائے ن لیگ کیا چاہتی ہے تو وزیراعظم سے بات کروں گا،اپوزیشن اراکین نے آرڈیننس کو این آر او قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا، چھ اکتوبر سے پہلے کیسز کیوں چلتے رہیں گے؟

اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود بل پر ووٹنگ نہ ہو سکی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اجلاس میں نیب ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔

اجلاس میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ کابینہ کے اجتماعی فیصلوں کا نیب کے دائرہ سے نکال دیا گیا، پھر کابینہ کے اجتماعی فیصلوں پر کونسا ادارہ ایکشن لے گا۔

اجلاس میں فروغ نسیم نے ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کابینہ کے فیصلہ پر کاروائی کر سکنے کا موقف اپنایا تو رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کا سربراہ حکومت لگاتی ہے، سربراہان کو قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں،نیب کے غیرجانبدار نہ ہونے کی وجہ سے سارا فساد ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں چیئرمین نیب قابو کرنے کیلئے قانون میں ترمیم ہو رہی ہے۔

اجلاس میں محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترامیم نیک نیتی سے نہیں لائی گئی،یہ شوگر کوٹڈ زہر ہے،چیئرمین نیب توسیع جیسی ترامیم کو نکال دیں تو ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

اجلاس میں عالیہ کامران نے آرڈیننس کو موجودہ حکومت کیلئے این آر اوقرار دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد کو سہولت صرف تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔

لیگی رہنما سعد رفیق نے کہا کہ آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار مخصوص حالات میں ہوتا ہے، نیب آرڈیننس واپس لیکر حکومت کمیٹی میں آئے تو ملکر قانون سازی کرینگے،ایک شخص اپوزیشن کو دبا کر ملک پر اپنا راج چاہتا ہے، ایسا کرنے والا خود پھنس جائے گا۔

اجلاس میں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر آرڈیننس واپس نہیں لیتے تو کیا ن لیگ جن شقوں کو بہتر سمجھتی ہے انہیں بھی مسترد کرے گی؟ کلیئر ہوجائے تو وزیراعظم سے بات کروں گا کہ ن لیگ کیا چاہتی ہے،

اس موقعے پر پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ اگر مشاورتی عمل شروع نہ ہو تو کیا چیئرمین نیب ہمیشہ کےلئے رہیں گے؟ جس پر فروغ نسیم نے بتایا کہ چیئرمین نیب کو کام جاری رکھنے کی اجازت ادارہ غیر فعال ہونے سے بچانے کےلئے ہے، محسن شاہنواز نے پوچھا کہ چھ اکتوبر سے پہلے والے کیسز کیوں چلتے رہیں گے؟وزیر قانون نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ ہے یہ مجبوری بھی سمجھیں، آپ چاہتے ہیں پاکستان مزید بھی گرے لسٹ میں رہے؟ بامعنی مشاورت کے نقطے پر بات ہو سکتی ہے۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہوکر نیب قانون پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، اجلاس میں نیب بلز پر ووٹنگ کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔

کمیٹی نے ملیر کورٹ میں خاتون پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئےرپورٹ طلب کی ہے۔