Aaj News

آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں، سپریم کورٹ

امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے، کیا کوئی رکن ڈیکلریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ جسٹس عمر عطاء بندیال
اپ ڈیٹ 25 مارچ 2022 06:11pm

رپورٹ: احمد عدیل سرفراز

اسلام آباد: آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریماکس میں کہا کہ امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے، کیا کوئی رکن ڈیکلریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجربینچ نے آرٹیکل 63 اےکی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، لارجر بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نےدلائل دیتےہوئے کہا کہ خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں،مخصوص نشستوں والےارکان نےعوام سےووٹ نہیں لیا ہوتا،مخصوص نشستوں والےارکان سندھ ہاؤس میں تھے،مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پرملتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے،خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزاہے،اعتماد توڑنے والے کوخائن کہاجاتا ہے،آپ کے مطابق پارٹی کوووٹ نہ دینےوالےخیانت کرتےہیں؟

جسٹس اعجاز الاحسن کیا کوئی رکن ڈیکلریشن دیتاہےکہ پارٹی ڈسپلن کاپابندرہےگا؟آئیں میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سےوفاداررہنا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیا موجودہ صورتحال میں حکومتی جماعت کےسربراہ نےکوئی ڈائریکشن دی؟جماعتی بنیادپرالیکشن لڑنے والا انتخابی نشان کی وجہ سے ووٹ لیتاہے،پارٹی ٹکٹ لینےپرالیکشن لڑنے والے پر پارٹی پالیسی پر عملدر آمد لازمی ہے، پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے پر کارروائی ہوگی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگرپارٹی کاسربراہ پارٹی رولزیا آئین کی خلاف ورزی کرےتو؟ کیاایسی صورت میں ارکان پھربھی اس کاساتھ دینےکےپابندہیں؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ قائداعظم کی وفات کےبعدبھی ان کی پارٹی برقراررہی،پارٹی کاسربراہ پوری سیاسی جماعت کولے کرچلتاہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا ممبرشپ فارم میں رکن ڈیکلریشن دیتاہےکہ ڈسپلن کا پابند رہے گا؟اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہےتوخلاف ورزی خیانت ہوگی۔

وزیراعظم نےاپنےعہدےکاحلف اٹھایاہوتاہے،اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر پھر ساتھ دینے کا پابند ہے؟ کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کرسکتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفیکٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے، وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹر انتحابی نشان پر مہر لگاتے ہیں کسی کے نام پر نہیں، پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنے والے جماعتی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ برصغیر میں بڑے لیڈرز کے نام سے سیاسی جماعتی آج بھی قائم ہیں، مسلم لیگ اور کانگریس بڑے لیڈرز کی جماعتیں ہیں، پارلیمانی جمہورت میں پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوتے ہیں، اراکین اسمبلی ربڑ اسٹمپ نہیں ہوتے کیوں کہ اگر پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جاسکتا ہے اور پارٹی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کیخلاف جایا جائے،رضا ربانی نے پارٹی ڈسپلن کے تحت فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا، یقین ہے رضا ربانی نے نااہلی کے ڈر سے ووٹ نہیں دیا ہوگا۔

جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے اختلاف کرنے والا استعفی کیوں دے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا جماعت کے ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شخص کو اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے تو کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیئے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اراکین اسمبلی صرف چار مواقع پر آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے، بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہاؤس میں رہتا تھا، سندھ ہاؤس میں ایسی کوئی ڈیوائس نہیں تھی جو ضمیر جگائے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ذاتی مفاد کیلئے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانا بے وفائی ہے، پارٹی کے اندر جمہوریت ہو تو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی، آرٹیکل 63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ صدر پارلیمانی جماعتوں کا بلا کر مشورہ کرتے، کیا عدالت سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنا مناسب نہیں ہوتا؟ پارلیمانی جماعتوں سے مل کر آئین میں ترمیم ہو سکتی تھی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ غلام اسحاق خان اسی طرح سب کو بلایا کرتے تھے۔

جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی تو کسی نے انحراف کیا ہی نہیں آپ ریفرنس لے آئے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم کو ہونے سے روکنا مقصد ہے۔

جسٹس مظہر نے کہا کہ جرم ہونے سے پہلے سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ قانون واضح کرنے کیلئے عدالت آئے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم ہو تو سزا دینے کیلئےقانون واضح ہونا چاہیئے۔

جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا ہی اس سپریم کورٹ کا کام ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حسبہ بل کے ڈرافٹ پر ہی حکومت عدالت آگئی تھی، حسبہ بل ریفرنس میں بھی قانون نہ بننے کا اعتراض آیا تھا، سپریم کورٹ نے بل کی منظوری نہ ہونے کا اعتراض مسترد کر دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 62 ون ایف کوالیفیکشن کی بات کرتا ہے، 62 ون ایف میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی، حکومتی جماعت کے لوگوں کا سندھ ہاؤس میں جاتے ہی ضمیر جاگ گیا۔

جسٹس جمال خان نے کہا کہ وزیراعظم ملک کیخلاف کوئی فیصلہ کرے تو کیا رکن مخالفت نہیں کرسکتا؟ جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ ملک کے خلاف کام ہونے پر رکن خود کو پارٹی سے الگ کرسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی سے اختلاف کرنے والا شخص کیا دوبارہ مینڈیٹ لے سکتا ہے؟ عدالت نے آرٹیکل 63اے کے تحت اعتراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا عدالت ریفرنس میں جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟۔

اٹارنی جنرل نے اٹھارہویں ترمیم پر ہونے والے پارلیمانی بحث عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کر دی ہے، آرٹیکل 62ون ایف میں بھی خالی جگہ موجود ہے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہہ کیا خالی جگہ عدالت کو پر کرنی ہے؟۔

جسٹس جمال نے کہا کہ کیا عدالت آئین میں کسی فل سٹاپ کا بھی اضافہ کرسکتی ہے؟،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں براہ راست تعلق ثابت کروں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ سے نہیں پڑھا جاسکتا باسٹھ اور تریسٹھ کو ملا کر پڑھا جاتا ہے، پارلیمانی بحث میں ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا گیا ہے،عدالت کو آرٹیکل 63اے کے تحت انحراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے۔

جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کیخلاف الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہےجس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کی بھوک مٹانے کیلئے چوری کرنا بھی جرم ہے۔

جسٹس جمال نے کہا کہ کوئی چوری کرنے والے کے ساتھ جائے تو کیا ہوگا؟ صدر مملکت کو ایسا مسئلہ کیا ہے؟ جو رائے مانگ رہے ہیں؟ صدر کے سامنے ایسا کون سا مواد ہے جس پر سوال پوچھے؟ تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے۔

Chief Justice

Supreme Court

اسلام آباد

justice umer ata bandiyal

artical 63 A

Comments are closed on this story.