دعا زہرا کے والد نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
کراچی: پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا کے والد نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورت میں دعا زہرا کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی ایسٹ، ایس ایچ او الفلاح اور تفتیشی افسر کو حکم دیا جائے کہ دعا زہرا کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کریں۔
درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دعا زہرا اور اس کی فیملی کو تحفظ فراہم کیا جائے، دعا زہرا اور ظہیر احمد کی 17 اپریل کو ہونے والی شادی غیر قانونی قرار دی جائے،16 اپریل کو رات ساڑھے بارہ بجے میری اہلیہ نے بتایا کہ ہماری بیٹی دعا زہرا لاپتہ ہے۔
درخواست کے مطابق دعا زہرا کے والدین نے الفلاح تھانے جاکر دعا زہرا کے اغواء کا مقدمہ نا معلوم افراد کے خلاف درج کرایا ، کیس کے تفتیشی افسر نے مقدمے کا چالان تا حال جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا۔
درخواست گزار کو سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ ظہیر احمد نے دعا زہرا سے شادی کرلی ہے، تاریخ پیدائش کے وقت نکاح کے وقت دعا زہرا کی عمر 14 سال تھی، کم عمری کی شادی جرم ہے کو چائلڈ ریسٹرین میرج ایکٹ 2013 کے تحت جرم ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق بھی دعا زہرا کی عمر 13 سال بنتی ہے، دعا زہرا کو بازیاب کرا کر والدین سے ملاقات کرانے کا حکم دیا جائے، دعا زہرا کا ڈی این اے کر اکر عمر کا تعین کا حکم دیا جائے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔