Aaj.tv Logo

جھمپیر: کوئلے کی کان سے مزید 2 مزدوں کی لاشیں نکال لی گئیں، تعداد 8 ہوگئی

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2022
<p>جھمپیرمیں کوئلے کی کان کے باہر کا منظر، تصویر آج نیوز</p>

جھمپیرمیں کوئلے کی کان کے باہر کا منظر، تصویر آج نیوز

<p>کان تقریبا 300 فٹ گہری  ہے، تصویر آج نیوز</p>

کان تقریبا 300 فٹ گہری ہے، تصویر آج نیوز

جھمپیرمیں کوئلے کی کان کے باہر کا منظر

ٹھٹھہ: جھمپیرمیں کوئلے کی کان میں دبے مزید 2 مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد مرنے والے کان کنوں کی تعداد 8 ہوگئی جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔

تین روزقبل جھمپیر میں مٹنگ ریلوے اسٹیشن پر کوئلے کی کان میں ڈوب کر جان حق ہونے والے 8 مزدوروں کی لاشیں 40 گھنٹے بعد نکال لی گئیں جبکہ ایک کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

دو روز پہاڑوں سے آنے والی برساتی ریلے کا پانی جھمپیر میں مٹنگ ریلوے اسٹیشن کے پاس کوئلے کی کان میں داخل ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں مزدور پانی میں ڈوب گئے تھے۔

تاہم مزدور کو نکالنے کے لئے کمشنر حیدراباد ندیم میمن اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ غظنفر علی قادری کی نگرانی میں امدادی کاروائی شروع کی گئی تھی اور پانی نکالنے کے لئے بھاری مشینری اور غوطہ خور طلب کئے گئے تھے۔

اسی دوران غوطہ خوروں نے کان میں اترنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد مشینری کے زریعے پانی کان نکالنا شروع کیا گیا جبکہ کان تقریبا 300 فٹ گہری ہے جس میں کئی مزدور کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ شدید برسات کی وجہ سے امدادی کاروائی کئی دفع معطل کی گئیں جس پر مقامی مزدوروں نے ریلوے ٹریک پر کھڑے ہوکر احتجاج کر کرکے پنجاب اور کراچی کے درمیان ریلوے ٹریفک معطل کردی تھی۔

احتجاج کے بعد امدادی کاروائی تیزکردی گئی تھی، لا شیں نکالنے میں 40 گھنٹے لگ گئے اور اب تک نکالی جانے والی لاشیں بھی مقامی مزدوروں نے نکالیں ہیں۔

واضح رہے کہ جاں بحق مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے سوات کے علاقے سے ہے۔