Aaj News

امریکا میں پاکستانیوں کا قاتل “افغان سیریل کلر” گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے یہ وارداتیں ممکنہ طور پر فرقہ واریت کی بنیاد پر کیں۔
شائع 11 اگست 2022 09:27pm
<p>تصویر بزریعہ روئٹرز</p>

تصویر بزریعہ روئٹرز

امریکی پولیس نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان تارک وطن کو چار مسلمان مردوں کے سلسلہ وار قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جس نے نیو میکسیکو کے سب سے بڑے شہر کی اسلامی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

البوکویرکے کی علاقائی مساجد کے ارد گرد سیکیورٹی کو مضبوط کرنے اور مسلمان مخالف نفرت پر مبنی شوٹر کے خوف کو دور کرنے کی کوشش کے بعد، پولیس نے منگل کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے 51 سالہ محمد سید کو گرفتار کیا ہے، جو کود بھی شہر کی مسلمان تارکین وطن کمیونٹی میں سے ایک ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ قتل کی ممکنہ وجہ فرقہ واریت ہوسکتی ہے۔ چاروں مقتولین افغان یا پاکستانی نژاد تھے۔ جن میں سے ایک کو نومبر میں اور باقی تین کو پچھلے دو ہفتوں کے دوران قتل کیا گیا۔

پولیس نے گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص کے البوکویرکے میں واقع گھر کی تلاشی سے “ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کسی حد تک متاثرین کو جانتا تھا، اور ہو سکتا ہے کہ ایک باہمی تنازعہ فائرنگ کا باعث بنا ہو۔” البوکویرکے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی کمانڈر کائل ہارٹساک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ تفتیش کار اب بھی چاروں افراد کے قتل کے محرکات کو اکٹھا کر رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں ہارٹساک نے کہا کہ ہوسکتا ہے مشتبہ شخص کی جانب سے اپنے ساتھی مسلمان متاثرین کے خلاف فرقہ وارانہ عداوت نے تشدد میں کردار ادا کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ، “ ہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ ہی اصل مقصد تھا یا یہ کسی اور مقصد کا حصہ تھا، یہ کوئی بڑی تصویر بھی ہوسکتی ہے جس سے ہم واقف نہیں۔ “

ہارٹساک نے کہا کہ سید کے خلاف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں گزشتہ تین یا چار سالوں میں گھریلو تشدد کے کیس سمیت مجرمانہ سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔

پولیس نے تفتیش کاروں کو ایک ایسی کار تلاش کرنے میں مدد کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا جس کے بارے میں جاسوسوں کا خیال ہے کہ اسے کم از کم ایک قتل میں استعمال کیا گیا تھا، اور بالآخر اس شخص کا سراغ لگایا گیا جس کو انہوں نے چاروں قتل میں اپنا “بنیادی مشتبہ” قرار دیا۔ البوکویرکے کے پولیس چیف ہیرالڈ میڈینا نے بریفنگ میں بتایا کہ سید پر باضابطہ طور پر دو قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، جن میں 41 سالہ آفتاب حسین اور 27 سالہ محمد افضل حسین شامل ہیں، جو بالترتیب 26 جولائی اور یکم اگست کو مارے گئے تھے۔

مبینہ قاتل کا تازہ ترین شکار 25 سالہ نعیم حسین ایک ٹرک ڈرائیور تھا جس نے 8 جولائی کو امریکی شہریت ھاصل کی تھی، اور جمعہ کو جولائی اور اگست میں مارے گئے دو افراد کی تدفین میں شرکت کے چند گھنٹے بعد قتل کیا گیا، دونوں مقتولین پاکستانی نژاد تھے۔

تین سب سے حالیہ متاثرین نے نیو میکسیکو کے اسلامک سینٹر اور البوکویرکے کی سب سے بڑی مسجد میں آتے تھے۔ ان سب کو جنوب مشرقی البوکویرکے میں سینٹرل ایونیو کے قریب گولی ماری گئی۔

پہلا معلوم شکار 62 سالہ محمد احمدی جو افغانستان کا باشندہ تھا، 7 نومبر 2021 کو ایک گروسری اسٹور اور کیفے کے باہر سگریٹ پیتے ہوئے مارا گیا تھا، جسے وہ شہر کے جنوب مشرقی حصے میں اپنے بھائی کے ساتھ چلا رہا تھا۔

گولیوں کے خول

پولیس نے کہا کہ سید پر ابتدائی طور پر جن دو قتلوں کا الزام عائد کیا گیا تھا ان کو دو جائے واردات سے ملنے والی گولیوں کے ڈھیروں کی بنیاد پر جوڑا گیا تھا، اور ان فائرنگز میں استعمال ہونے والی بندوق بعد میں سید کے گھر سے ملی تھی۔

پولیس کے مطابق، جاسوس پیر کے روز جنوب مشرقی البوکویرکے میں سید کی رہائش گاہ کی تلاشی لینے کی تیاری کر رہے تھے کہ وہ اس کار میں رہائش گاہ سے نکلا جسے تفتیش کاروں نے ایک دن پہلے عوام کے سامنے “مطلوبہ گاڑی” کے طور پر پیش کیا تھا۔

مردوں کی ٹارگٹ کلنگ نے البوکویرکے کی مسلم کمیونٹی کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ اہل خانہ اپنے گھروں میں محصور ہیں نیو میکسیکو یونیورسٹی کے کچھ پاکستانی طلباء خوف کے مارے شہر چھوڑ گئے ہیں۔

New Mexico

Afghan Serial Killer

Pakistani Killed

Comments are closed on this story.