Aaj News

بدھ, جولائ 17, 2024  
10 Muharram 1446  

کیا مہربانو قریشی کو موروثی سیاست لے ڈوبی

کئی صارفین نے شکست کا الزام زرتاج گل پردھردیا
شائع 17 اکتوبر 2022 11:13am
پی ٹی آئی/ ٹوئٹرہینڈل
پی ٹی آئی/ ٹوئٹرہینڈل

پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں میں سے 8 پر کامیابی حاصل کی جو تمام تر سیاسی اونچ نیچ کے باوجود پارٹی مقبولیت کا مضبوط جواز فراہم کرتی ہے لیکن ملتان کی اہم نشست پرشکست کئی سوالات بھی اٹھارہی ہے۔

ملتان کے حلقہ این اے157 میں سے مکمل پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کےعلی موسیٰ گیلانی ایک لاکھ 7 ہزار 327 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی کی مہربانو 82 ہزار 141 ووٹس لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے صاحبزادے نے اپنی حریف اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی کو 25 ہزار186 ووٹوں کے بڑے مارجن سے شکست دی۔

حلقہ این اے 157 کی یہ نشست شاہ محمود کے صاحبزادے اورزین قریشی نے خالی کی تھی اورغالباً یہی وجہ تھی کہ ضمنی انتخاب کے لیے مہربانو کو ٹکٹ دینے پرمخالف حلقوں کے علاوہ خود پارٹی کے اندرسے بھی آوزایں اٹھائی گئیں،حلقے سے پارٹی کارکنوں نے بھی موروثی سیاست دفن کرنے کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی کے اس کے برعکس اقدام کی شدید مخالفت کی تھی۔

مہربانو کی شکست سوشل میڈیا پرزیربحث ہے اور انہیں ٹکٹ دینے پرتنقید کرنے والے اب اپنے تبصروں میں واضح کررہے ہیں کہ اس شکست کے اسباب کیا ہیں۔

ایک صارف نے ملتان میں پی ٹی آئی کے ووٹرزکو ’’غیرجانبدار‘’قراردیتے ہوئے لکھا کہ آپ خاندانی سیاست کیخلاف بیانیے کے بعد خود خاندانی سیاست کر سکتے ہیں تو یہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے لیے ایک سبق ہے۔

مہربانو کی قابلیت پرشک نہ رکھنے والے صارف نے بھی شکست کی وجہ انہیں اپنے والد کی وجہ سے پارٹی ٹکٹ ملنا قراردیا۔

صارفین نے مہربانو کی شکست میرٹ کا مذاق اڑانے کا نتیجہ بھی قراردی۔

پی ٹی آئی کے ایک حمایتی صارف نے لکھا کہ مہر بانو کی شکست پارٹی قیادت کیلئے ایک سبق ہے کہ ہم موروثی سیاست کی حمایت نہیں کرتے۔

ایک صارف نے جلسے کے دوران اسٹیج پرمہربانو اورعمران خان کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کرزرتاج گل کے ردعمل سے متعلق ویڈیو شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ، مہربانوزرتاج گل کا نشانہ بن گئیں“۔

اس شکست کو میمز کی شکل میں بیان کرنے والے بھی حاضرہیں۔

موروثی سیاست کی مخالفت کے علاوہ ایسے تبصرے بھی سامنے آئے کہ ،”قریشی خاندان مشکل ترین وقت میں خان کےساتھ سیسہ پلائی دیوارکی طرح کھڑاہواہے۔ایسےوقت میں الیکشن لڑناجب اسمبلی بھی ناجاناہوکوئی مراعت نہیں بلکہ قربانی ہے“۔

دوسری جانب ٹوئٹرپرمتحرک مہربانو قریشی شکست کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے مخالفین کے لیے ناقدانہ ٹویٹس کررہی ہیں ۔

پارٹی کے نائب صدر کی صاحبزادی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو الیکشن لڑناآگیا ہے، لہذاٰ اور خطرناک ہوگئی ہے۔

pti

imran khan

bye election2 22

Mehar Bano Qureshi