Aaj News

بدھ, مئ 29, 2024  
20 Dhul-Qadah 1445  

مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بےحرمتی دیکھ کر’غصہ اور نفرت’ محسوس ہوئی، پوپ فرانسس

پوپ فرانسس نےسویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت کردی
شائع 04 جولائ 2023 10:09am
پوپ فرانسس ، (روئٹرز)
پوپ فرانسس ، (روئٹرز)

پوپ فرانسس نے گزشتہ ہفتے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی دیکھ کر انہیں ’غصہ اورنفرت‘ محسوس ہوئی۔

متحدہ عرب امارات کے روزنامہ ’الاتحاد‘ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں پوپ فرانسس افسوس کا اظہارکرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ انسانی برادری سے متعلق فروغ دی گئی اقدار کو ذہن میں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ، ’مقدس سمجھی جانے والی کسی بھی کتاب کا احترام کیا جانا چاہئیے اور ان لوگوں کا احترام کرنا چاہئیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں‘۔

اگرچہ سویڈش پولیس نے قرآن مخالف مظاہروں کی متعدد حالیہ درخواستوں کو مسترد کیا لیکن عدالتوں نے ان فیصلوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ آزادی اظہار کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

پوپ فرانسس نے اپنے انٹرویو میں اظہار رائے کی آزادی کے جواز کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا، “اظہار رائے کی آزادی کو کبھی بھی دوسروں سے نفرت کرنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئیے نہ اس کی اجازت دی جانی چاہئیے ۔ اس اقدام کی مذمت کی جاتی ہے۔

سویڈن میں اس سے قبل بھی مسلمانوں کے خلاف مظاہرے ہو چکے ہیں۔

جنوری کے اواخر میں ترکی نے سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کی درخواست پر مذاکرات اس وقت معطل کر دیے تھے جب ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کے ایک سیاستدان نے اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے قریب قرآن پاک کا ایک نسخہ نذر آتش کیا تھا۔

دوسری جانب سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سویڈن اپنی شناخت کے بارے میں سوچے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین سکیورٹی صورتحال ہے۔ دوسرے لوگوں کی توہین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

پس منظر

بدھ 28 جون کو جب دنیا بھرمیں بہت سے مسلمان عید الاضحی منا رہے تھے تو اسٹاک ہوم میں ایک شخص نے مسجد کے باہر قرآن پاک کی بےحرمتی کی تھی ۔

ترکی اور سعودی عرب کی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر اس فعل کی مذمت کی۔اتوار کے روز 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے کہا کہ مذہبی منافرت کو روکنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے اور بین الاقوامی قوانین کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

او آئی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو مسلسل یاد دہانی بھیجنی چاہئے، جو واضح طور پر مذہبی منافرت کی وکالت کی ممانعت کرتا ہے۔ سعودی عرب نے پیر 3 جولائی کوسویڈن کے سفیر کو اس واقعے پر طلب کرتے ہوئےزور دیا کہ، ’ایسے تمام اقدامات کو روکیں جو رواداری، اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے کی اقدار کو پھیلانے اور لوگوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے لئے ضروری باہمی احترام کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔‘

Sweden

Pop

Pope condemns Quran burning