Aaj News

جمعرات, مئ 23, 2024  
14 Dhul-Qadah 1445  

توشہ خانہ کیس میں نوازشریف کے وارنٹ معطل، ضمانت منظور

نوازشریف کو حاضری کے بعد واپس جانے کی اجازت مل گئی
اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2023 02:34pm
فوٹو:آج نیوز
فوٹو:آج نیوز

سابق وزیراعظم نوازشریف کو توشہ خانہ ریفرنس میں ضمانت مل گئی ہے، اور ان کے وارنٹ معطل کردیئے گئے ہیں۔ عدالت نے انہیں 10 لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، اور کیس کی سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے اور خود کو احتساب عدالت کے سامنے سرینڈر کردیا۔ توشہ خانہ کیس میں نوازشریف کے ضمانتی طورپر طارق فضل چوہدری کو مقرر کیا گیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کی، جج نے نوازشریف کو حاضری کے لیے روسٹرم پر بلایا، اور حکم دیا کہ نواز شریف سے ابھی دستخط کرالیں۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کے سامنے سرینڈر کردیا، جس پر جج محمد بشیر نے وکلاء کو اشارہ کیا کہ نوازشریف کو لے جائیں۔

عدالت نے نواز شریف کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا اور حاضری کے بعد واپس جانے کی اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد نوازشریف کے ضمانتی طارق فضل چوہدری نے عدالتی حکم پر 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروا دیئے۔

نوازشریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پلیڈر کی درخواست دائر کی ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا اس پر آج ہی سماعت کرنی ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ جی آج ہی سماعت کی استدعا ہے۔

جج نے وکیل سے استفسار کیا پلیڈر کون ہے؟۔ جس پر وکیل نے بتایا کہ وکیل رانا محمد عرفان پلیڈر ہیں جوعدالت میں موجود ہیں، آپ حکم کریں گے نوازشریف کمرہ عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔

عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی اور ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر نقول تقسیم کی جائیں گی۔

عدالت نے نوازشریف کی جائیداد ضبطگی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 نومبر کو جائیداد ضبطگی کی درخواست پر دلائل طلب کرلئے۔

نوازشریف کی احتساب عدالت آمد

نوازشریف جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تو مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے ان کا پرجوش استقبال کیا گیا، اور گلپوشی کی گئی۔ اس موقع پر شہباز شریف بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی پیشی سے قبل کمرہ عدالت خالی کرا لیا گیا تھا، سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ توشہ خانہ کی سماعت شروع ہونے سے پہلے بم ڈسپوزل اسکواڈ کمرہ عدالت کی تلاشی لے گا، اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے کلیئر کرنے کے بعد سماعت شروع ہوگی۔

ن لیگ کے قائد نوازشریف کی پیشی سے قبل لیگی رہنما احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، ایاز صادق اور رانا تنویر بھی احتساب عدالت میں موجود تھے۔

نوازشریف کا ایک سے ڈیڑھ بجے عدالت پیش ہونے کی مہلت

اس سے قبل احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی، جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر لیگی وکلاء اور سینیٹر افنان اللہ، نہال ہاشمی سمیت و دیگر لیگی رہنما احتساب عدالت پہنچ گئے۔ احتساب عدالت کے باہر اسلام آباد پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نوازشریف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں وقت دیا جائے، اور اس وقت تک عدالت باقی روٹین کے کیسزسن لے۔

جج محمد بشیر نے نوازشریف کو پیش ہونے کے لئے ایک سے ڈیڑھ بجے کا وقت دیا، اور سماعت میں وقفہ کردیا۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے نوازشریف کے آج تک دائمی وارنٹ معطل کر رکھے تھے، اور سابق وزیراعظم احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے اور خود کو سرینڈر کیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف آج توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت اور العزیزیہ و ایون فیلڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہوں گے، دونوں عدالتوں نے قائد ن لیگ کے آج تک دائمی وارنٹ گرفتاری معطل رکھے ہیں۔

مری سے اسلام آباد تک نوازشریف کے ساتھ کون کون تھا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لئے مری کشمیر پواٸنٹ پر واقع اپنی رہاٸش گاہ سے اسلام آباد کیلئے پونے 11 بجے روانہ ہوئے اور 12 بجے اسلام آباد پہنچ گئے، مریم نواز، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف اور اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیگی رہنما نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ انتقام پر یقین نہیں رکھتے، انتقام نہیں انصاف ہونا چاہیئے، انصاف کیلئے چیف جسٹس فائزعیسیٰ اورعدالتیں موجود ہیں۔

Nawaz Sharif

nawaz sharif returns 2023