Aaj News

سائفر کیس میں پی ٹی آئی درخواستوں پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

عمران خان کے خلاف ایف آئی آر میں کچھ دفعات میں سزائے موت اور عمر قید ہے، عدالت
اپ ڈیٹ 22 نومبر 2023 01:49pm
فوٹو۔۔۔۔۔ فائل
فوٹو۔۔۔۔۔ فائل

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کے خلاف ایف آئی آر میں کچھ دفعات میں سزائے موت اور عمر قید ہے۔ عدالت نے عمران خان کی ضمانت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں چئیرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ اے ملک بھی بنیچ کا حصہ ہیں۔

چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آئے اور عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر پڑھ کر سنا دی۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کب کا ہے۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ یہ معاملہ 2022 کا ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے، ایف آئی آر میں کچھ دفعات میں سزائے موت اور عمر قید ہے۔

بغیر نوٹس پیش ہونے پر عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو کس نے بلایا ہے، پیچھے جا کر بیٹھ جائیں۔

وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی پر لگے الزامات پڑھ کر سنائے، اور کہا کہ الزام ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کو غلط رنگ دینے کا کہا، اور انہوں نے ریاست کو نقصان پہنچایا۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ شریک ملزمان کے کردار کا تعین ہوا۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ اسد عمر کو چھوڑ دیا گیا ہے، جب کہ اعظم خان کو گواہ بنا دیا گیا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے کیس پر کہا گیا تھا کہ اعظم خان ملزم ہیں، انکوائری میں کہا کردار تفتیش میں طے کیا جائے گا، حتمی تفتیشی رپورٹ میں اعظم خان سے متعلق کیا کہا۔

وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ تفتیشی نے کوئی واضح موقف نہیں بتایا تاہم اغواء کے بعد اعظم خان کا 164 کا بیان آیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دئیے۔

جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہوگا، کس نے کہا تھا کہ اخراج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس لے مرکزی گراونڈزکیا ہیں۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں ہے۔ لگائی گئی دفعات جاسوسی جیسے جرائم پرلگتی ہیں، کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی، یا دشمن ملک کو فائدہ پہنچا۔

جسٹس سردارطارق نے ریمارکس دیئے کہ وہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کر دیا۔ جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ الزام بنیادی طور پر کاپی گم ہونے کا نہیں ہے اس کا متن پبلک کرنے کا ہے، کیا سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا، یا نہیں۔

وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا۔

جسٹس یحییٰ نے دوبارہ استفسار کیا کہ ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دکھایا۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا۔

جسٹس سردارطارق نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتا دیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟۔

عدالت نے آج کا حکم نامہ لکھوانا شروع کردیا اور درخواست ضمانت پر تمام فریقین وفاق ایف آئی اے، اور شکایت کنندہ کو بھی نوٹس جاری کردیا، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلٸے ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت

اس قبل چیئرمین پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے درخواست میں وفاق اور ایف آئی اے کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی کہ میرے خلاف بنایا گیا سائفرمقدمہ خارج کیا جائے۔

چئیرمن پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے عدالت سے التوا مانگتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ دیا ہے، فیصلے کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تو نیا آرڈر آیا ہے، جس آڈر کے خلاف آپ کی یہ اپیل ہے اسے ہم ابھی بھی سن سکتےہیں۔

وکیل حامد خان نے دوبارہ استدعا کی کہ ہائیکورٹ کا انٹرا کورٹ اپیل فیصلے کا جائزہ لینے کا التوا دے دیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف آپ نئی اپیل بھی دائر کرسکتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس اپنی باری پر سنا جائے گا۔

عدالت نے حامد خان کی استدعا منظور کرکے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی کی ضمانت مسترد کی تھی، اور ان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی خارج کردی گئی تھی، جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں رجوع کررکھا ہے۔

سائفر کیس کا پس منظر

عمران اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ ایک سفارتی سائفر کے مبینہ مواد کے ”غلط استعمال“ سے متعلق ہے، جس کا حوالہ سابق وزیر اعظم عمران نے ان کی حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کے ثبوت کے طور پر دیا ہے۔

imran khan

Islamabad High Court

indian supreme court

cypher case Imran Khan

Cypher case

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div