Aaj News

جمعہ, مئ 31, 2024  
22 Dhul-Qadah 1445  

عمران خان کی ضمانت منظور: جیل سے رہائی کب ممکن ہوگی؟

اسلام آباد ہائیکورٹ گزشتہ روز عمران خان کی درخواست ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا
شائع 15 مئ 2024 05:25pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاونڈ کیس میں ضمانت منظور کر لی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے گزشتہ روز عمران خان کی درخواست ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ بدھ کو سنا دیا۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ سے 190 ملین پاونڈ کیس میں ضمانت منظور ہونے کے باوجود عمران خان 2 مقدمات میں سزایافتہ مجرم ہیں اس لیے ان کی فوری رہائی ممکن نہیں ہوگی۔

190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 7 برس قید سزا سنائی گئی ہے۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے جس پر پراسیکیوشن کے وکیل کے دلائل جاری ہیں۔

عدت نکاح کیس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی عدالت نے 10،10 برس قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

اس کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر عمران خان کے وکیل اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں جبکہ ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر کے دلائل حتمی مرحلے میں ہیں۔

ان 2 کیسز کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان پر توشہ خانہ نیب مقدمے میں 14 برس کی سزا بھی سنائی گئی ہے تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان سزاوں کو معطل کردیا تھا۔

عمران خان لانگ مارچ توڑ پھوڑ کے 2 مقدمات میں بری

عمران خان کی رہائی سائفر کیس اور عدت نکاح کیس میں سزائیں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ہی ممکن ہوگی تاہم 190 ملین پاونڈ کیس کا ٹرائل بھی اڈیالہ جیل میں جاری ہے۔

اسلام آباد

Justice Amir Farooq

Islamabad High Court

190 million pounds scandal