اسرائیل کی تاجروں کو سامان غزہ میں فروخت کی اجازت، امدادی اداروں پر پابندی
امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے دہرا نظام چلا رہا ہے۔ جس کے تحت وہ اشیاء جو امدادی اداروں کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے وہی اشیاء تاجروں کے ذریعے غزہ میں داخل ہو رہی ہیں اور بازار میں مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔
امریکی اخبار دی گارجین نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کے لیے ممنوع قرار دی گئی اشیاء کی تاجروں کو بازاروں میں فروخت کے لیے اجازت دے رکھی ہے۔
ان اشیاء میں جنریٹر اور خیمے بنانے کا سامان شامل ہے جنہیں اسرائیل نے طویل عرصے سے ’ڈوئل یوز‘ (دہرے استعمال) فہرست میں رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اشیاء کے داخلے پر سخت پابندیاں اس لیے ضروری ہیں کیونکہ انہیں حماس یا دیگر مسلح گروہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق گزشتہ کم از کم ایک ماہ سے اسرائیلی حکام نے کاروباری اداروں کو اس فہرست میں شامل متعدد اشیاء غزہ لانے کی اجازت دی ہے جس میں جنریٹر اور دھاتی پیلیٹس شامل ہیں جو بارش اور کیچڑ میں لکڑی کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔
وہ تمام سامان جو مفت امداد کے ذریعے پہنچایا جانا تھا وہی اشیاء اب غزہ کے بازار میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ تمام سامان بھی انہی تین سخت نگرانی والے اسرائیلی چیک پوائنٹس سے گزرتا ہے جہاں سے امدادی اداروں کے لیے ایسی کھیپ روک دی جاتی ہے۔
اخبار کے مطابق ایک سفارتی ذریعے نے کہا کہ ’ایسا ناممکن ہے کہ اسرائیلی حکام کو اس کا علم نہ ہو اور نہایت حیران کن ہے کہ یہ اشیاء تجارتی چینلز سے داخل ہو رہی ہیں۔‘
اس دہرے معیار کی وجہ سے فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے والے امدادی اداروں کو مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ وہ تاجر فائدے میں ہیں جو اسرائیلی حکام سے درآمدی اجازت نامے حاصل کر لیتے ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’گیشا‘ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تانیا ہاری کے مطابق اسرائیل طویل عرصے سے غزہ تک رسائی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا آ رہا ہے۔
اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں تجارت انتہائی منافع بخش بن چکی ہے۔ ڈوئل یوز فہرست میں شامل اشیاء اب غزہ میں بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے (اونروا) کے قائم مقام غزہ ڈائریکٹر سیم روز کے مطابق اس وقت جنریٹر حاصل کرنے کا واحد راستہ نجی شعبہ ہے اور اس پر بھاری منافع لیا جا رہا ہے۔
سیم روز نے مزید کہا کہ اسرائیلی، مصری اور فلسطینی کاروباری مفادات، بعض سیکیورٹی کمپنیوں اور مجرمانہ عناصر کے ساتھ مل کر ایک غیر قانونی معیشت کو فروغ دے رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ حماس کو اس سے کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق غزہ ہمیشہ اسرائیلی معیشت کے لیے ایک بڑی منڈی رہا ہے اور تجارتی ترسیل میں دونوں اطراف فیس اور ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں۔
اُدھر اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ذیلی ادارے ’کوگاٹ‘ نے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ یا تاجروں کے لیے نرم رویے کی تردید کی ہے۔ ترجمان کے مطابق غزہ میں امداد کی پالیسی سیاسی قیادت طے کرتی ہے اور اس پر اقوام متحدہ، بین الاقوامی اداروں، عطیہ دہندگان اور نجی شعبے کے لیے یکساں عمل درآمد ہوتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متبادل انتظامات کے ذریعے انسانی امداد کو سہولت دی جاتی ہے، جبکہ گزشتہ ایک ماہ میں طبی اداروں کو جنریٹر لانے کی اجازت دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں اسرائیل کی جانب سے امداد کو سیاسی اور عسکری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تازہ مثال ہیں۔ موسمِ گرما میں خوراک کی ترسیل روکنے سے غزہ کے بعض علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی اور سینکڑوں افراد جان سے گئے۔
حال ہی میں اسرائیل نے غزہ میں سرگرم 37 این جی اوز کو 60 دن کے اندر کام بند کرنے یا اپنے فلسطینی عملے کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے جسے سفارتی اور انسانی حکام نے تباہ کُن قرار دیا ہے۔
موسمِ سرما اور پناہ گاہوں کی کمی کے باعث غذائیت میں کمی کے اثرات بڑھ رہے ہیں، اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں ماہ کم از کم تین بچے سردی سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے حکام کے مطابق امداد کی موجودہ سطح جنگ بندی کے تحت طے شدہ اہداف سے کہیں کم ہے۔ اگرچہ خوراک کی ترسیل میں کچھ اضافہ ہوا ہے مگر قحط کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔















