نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے قومی کانفرنس کا اعلان کردیا، سیاسی رابطے تیز
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور قومی معاملات پر مشاورت کے لیے سیاست دانوں، وکلا اور دانشوروں کی ایک بڑی بیٹھک بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے رابطوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کمیٹی کی جانب سے فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نمائندہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی قومی کانفرنس اگلے ہفتے اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔
اس کانفرنس میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ وکلا تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو بھی دعوت دی جائے گی تاکہ قومی مسائل پر ہمہ جہت گفتگو ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ کانفرنس کا مقصد ملک میں درپیش سیاسی بحران، آئینی معاملات، جمہوری عمل اور مستقبل کے لائحہ عمل پر کھل کر بات کرنا ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فورم مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے اور اختلافات کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
تاہم اس پیش رفت کے دوران تحریک تحفظ آئین پاکستان سے بھی رابطہ کیا گیا، مگر تحریک کی قیادت نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
تحریک کے مؤقف سے آگاہ ذرائع کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی کانفرنس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کا امکان کم ہے، اس لیے وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتیں اس کانفرنس میں شریک ہوتی ہیں تو یہ ملک میں سیاسی مکالمے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقے اسے محض ایک علامتی کوشش قرار دے رہے ہیں۔













